سوال و جواب
Urdu book, p. 251
By Maulana Wahiduddin Khan
تکفیر و تفسیق کا موجودہ طریقہ جو مسلمانوں میں ایک عرصہ سے رائج ہے وہ سراسر باطل ہے، شریعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ مذموم طریقہ عباسی سلطنت کے زمانہ میں رائج ہوا اور ’’فرق ضالہ‘‘ کے نام پر وہ کئی سو سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ یہ نوبت آ گئی کہ ان فتووں کے مطابق، امت مسلمہ میں کوئی بھی شخص مومن و مسلم کی حیثیت سے باقی نہ رہا۔ آخر کار علما نے اتفاقِ عام کے ساتھ یہ فیصلہ کیا کہ تکفیر و تفسیق کے اس کام کو بند کر دیا جائے۔ علما نے اتفاق رائے کے ساتھ یہ اعلان کیا: لَا نُکَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ (الکبائر للذہبی، صفحہ 156) ۔ ہم کسی ایسے شخص کو کافر نہیں کہیں گے جو قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھے۔ یہی اس معاملہ میں صحیح مسلک ہے۔ قرون مشہود لہا بالخیر میں اس قسم کا تکفیری مشغلہ نہیں ملتا۔ یہ تکفیری مشغلہ عباسی دور میں قدیم عراق میں متکلمین نے پیدا کیا۔ مگر بعد کو علما ئے راسخین نے اُس کو رد کر دیا اور یہ متفقہ فیصلہ کیا کہ کسی بھی حال میں اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ اہل قبلہ کی شرط اُسی قسم کی ایک چیز ہے جس کو تعلیق بالحال کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک بات کسی ایسی بات کے ساتھ مشروط کر دینا جس کا واقع ہونا ناممکن ہو۔ کوئی بھی فرقہ کبھی ایسا نہیں کرے گا کہ وہ کعبہ کے بجائے کسی مندر یا چرچ کی طرف نماز پڑھے۔ پچھلے ہزار سال کے دوران کبھی کسی فرقہ نے ایسا نہیں کیا۔ ایسی حالت میں — لَا نُکَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ کوئی شخص جو اپنے آپ کو مسلمان کہے، ہم بھی اُس کو مسلمان کہیں گے۔ ہم اپنی طرف سے کسی کو کافر نہیں بتائیں گے۔ تکفیر و تفسیق کی ممانعت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ برائی کے معاملہ میں لوگوں کو بے عمل یا غیر جانبدار بنا دیا جائے۔ اس کا مطلب عمل کے صحیح رُخ کو بتانا ہے اور وہ یہ کہ برائی کے معاملہ میں ہمارا طریقہ خیر خواہانہ نصیحت کا ہونا چاہیے۔ بقیہ چیزوں کو اللہ کے اوپر چھوڑ دینا چاہیے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader