Urdu book · حکمتِ اختلاف

سوال و جواب

Urdu book, p. 250

By Maulana Wahiduddin Khan

5- کلمہ پڑھنا صرف اسلام میں داخلہ کا اعلان ہے۔ کلمہ کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی شرک کے ارتکاب سے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔ فتنہ کی اس دنیا میں کوئی بھی شخص شرک میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ مصلح کا کام مشرک کی نشاندہی کرنا اور اُس پر حکم لگانا نہیں ہے بلکہ عمومی انداز میں شرک کا مسئلہ بتانا ہے۔ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ آپ کو جب اصلاحی خطاب کرنا ہوتا تو آپ فرماتے: مَا بَالُ أَقْوَامِ يَقُولُونَ كَذَا وَكَذَا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 4788)۔ یعنی، لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسا اور ایسا کہتے ہیں۔ 6- ایک شخص اگر شراب پیتا ہو تو مصلح کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ اُس کے شرابی ہونے کا اعلان کرے اور اُس کو کوڑا مارنے کا فتویٰ دے۔ مصلح کا کام صرف یہ ہے کہ وہ کامل خیر خواہی کے ساتھ شرابی کو نصیحت کرے اور برابر نصیحت کرتا رہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص بظاہر شرک میں مبتلا ہے تو مصلح کو چاہیے کہ وہ خیر خواہانہ انداز میں اُس کو سمجھائے۔ مصلح کو اس کا حق نہیں کہ وہ برسرِ عام تعین کے ساتھ کسی کے مشرک ہونے کا اعلان کرے اور اُؔس کے خلاف فتویٰ جاری کرے۔ یہ سب دینی اصلاح میں غلو کے کام ہیں اور اسلام میں غلو کی سخت ممانعت کی گئی ہے۔ 7- اس معاملہ میں مسلم اور نومسلم دونوں کا حکم ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ اصلاح کی ہمدردانہ کوشش دونوں کے ساتھ کی جائے گی۔ مگر تعین کے ساتھ شرعی حکم لگانے کا کام کسی کے خلاف بھی نہیں کیا جائے گا۔ 8- پیغمبر کا طریقہ یہ ہے کہ سارا از سرِ نو روحِ دین کو زندہ کرنے پر لگایا جائے۔ خارجی اعمال ہمیشہ داخلی روح کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ خارجی اعمال سے اپنے آپ داخلی روح پیدا ہو جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page