سوال و جواب
Urdu book, p. 270
By Maulana Wahiduddin Khan
پچھلے سو سال کے اندر مسلمانوں نے بار بار اتحاد کا کانفرنسیں کی ہیں۔ مگر وہ سب کی سب بے نتیجہ رہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اتحاد جلسوں اور تقریروں سے قائم نہیں ہوتا۔ اُس کے لیے کچھ اور زیادہ گہرے اسباب درکار ہیں۔ مثلاً مسلمانوں میں اختلاف کو برداشت کرنے کا مزاج ، دوسرے طبقات میں یہ احساس کہ مسلمانوں کے ساتھ متحد ہو کر انہیں کوئی بڑا فائدہ مل سکتا ہے۔ اتحاد کا نفرنس کے انعقاد سے پہلے اُس کے حق میں گراؤنڈ ورک ، وغیرہ۔ اتحاد کے حق میں ابھی تک اس قسم کے موافق اسباب موجود نہیں۔ ایسی حالت میں اتحاد کی بات اُسی طرح ایک خیالی شاعری ہے جیسا کہ اس سے بہت پہلے اقبال نے یہ شعر کہا تھا: ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کا شغر سوال میں الرسالہ مشن سے وابستہ ہوں اور اُس سے پورا اتفاق رکھتا ہوں۔ اس موضوع پر اکثر لوگوں سے بحث ہوتی رہتی ہے۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا اس قسم کا بیان درست ہے کہ ”الرسالہ مشن کے لوگ حق پر ہیں اور مثلاً جماعت اسلامی کے لوگ باطل پر۔“ براہِ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں۔ (عبد اللطیف، پاکستان) جواب یہ کہنا کہ فلاں شخص یا فلاں گروہ حق پر ہے اور فلاں باطل پر، یہ ہمارے مشن کی زبان نہیں۔ یہ ویلوجھمنٹ (value judgement) کا طریقہ ہے، یعنی لوگوں پر شرعی حکم لگانا۔ کسی پر شرعی حکم لگانا ہمارا طریقہ نہیں۔ ہمارا طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے نقطۂ نظر کو قرآن و حدیث کے حوالوں سے پیش کرتے ہیں۔ اگر کسی کو ہمارے نقطۂ نظر سے اختلاف ہے تو وہ قرآن و حدیث کے دلائل سے اِس کو رد کر سکتا ہے۔ لوگوں کے اوپر شرعی حکم لگانے کا حکم نہ ہم کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader