سوال و جواب
Urdu book, p. 275
By Maulana Wahiduddin Khan
سوال میں نے کئی مذہبوں کو پڑھا ہے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ سب مذاہب ایک ہیں۔ سب مذاہب ایک ہی سچائی کی طرف جاتے ہیں۔ آج کل لوگوں میں یہ سوچ آگئی ہے کہ میرا ہی مذہب اچھا اور سچا ہے۔ اس کی وجہ سے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ سب مذاہب یکساں ہیں تو تمام جھگڑے اپنے آپ مٹ جائیں گے۔ اس بارے میں اپنی رائے دیں۔ (گوپال شرما، نئی دہلی) جواب سب مذہب ایک ہیں کا نظریہ ایک غیر علمی اور غیر واقعی نظریہ ہے۔ کیوں کہ مذہبوں کے درمیان اختلاف ایک واضح حقیقت ہے۔ مثال کے طور پر اسلام میں خالق اور مخلوق کی علیحدگی کا تصور ہے، جب کہ ہندو دھرم میں دونوں کو ایک مانا جاتا ہے، اسی کا نام ادویت واد ہے۔ اسی طرح اسلام میں پیغمبر کا تصور ہے اور ہندو دھرم میں خدائی اوتار کا تصور۔ اسلام میں موت کے بعد سزا اور جزا کا تصور ہے اور ہندو دھرم میں آواگون کا تصور، وغیرہ۔ جہاں تک سماجی اتحاد کا معاملہ ہے، اس کا کوئی تعلق مذہبی اتحاد سے نہیں۔ ساری تاریخ بتاتی ہے کہ بار بار ایک مذہب کے لوگ آپس میں لڑتے رہے ہیں مثلاً کورو اور پانڈو دونوں ہندو تھے ۔ اس کے باوجود ان میں زبردست جنگ ہوئی۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں عیسائی قومیں ایک دوسرے کے خلاف لڑیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کی 1971 کی جنگ یا افغانستان کی موجودہ جنگ میں دونوں فریق مسلمان ہیں۔ اصل یہ ہے کہ اختلاف ایک فطری چیز ہے، وہ زندگی کا لازمی حصہ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader