سوال و جواب
Urdu book, p. 274
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک کلچر کا سماج بنایا جائے ۔ مگر یہ کوئی فارمولا نہیں ۔ کیوں کہ ایسا ہونا سرے سے ممکن ہی نہیں ۔ فطرت کا نظام جو خالق نے بنایا ہے وہ یکسانیت کے اصول پر نہیں بنایا بلکہ تعداد اور تنوع کے اصول پر بنایا ہے۔ یہی تعداد اور تنوع مذہبی اور تہذیبی دنیا میں بھی موجود ہے۔ یہ خالق کے تخلیقی نقشہ کا ایک حصہ ہے اور جو چیز خود خالق کے تخلیقی نقشہ کا حصہ ہو، اُس کو مٹانا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں انسانی دنیا میں مذہبی یکسانیت یا کلچرل یکسانیت کی بات کرنا اتنا ہی بے معنی ہے جتنا کہ مادی دنیا کے تنوع کو ختم کر کے یکساں مادی نظام قائم کرنے کا منصوبہ بنانا۔ اس سلسلے میں دوسرا فارمولا یہ پیش کیا جاتا ہے کہ تمام مذاہب یکساں ہیں۔ اس نظریہ کے حاملین ، لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مختلف مذاہب میں کوئی اختلاف ہی نہیں ۔ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ فرق اور اختلاف کے ذہن کو ختم کر دیں، اس طرح اپنے آپ اتحاد قائم ہو جائے گا۔ یہ بات بھی سراسر بے معنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مختلف مذہبوں اور مختلف تہذیبوں میں فرق اور اختلاف اتنا زیادہ حتمی صورت میں موجود ہے کہ کسی بھی دلیل سے اس کو غیر موجود ثابت کرنا ممکن نہیں۔ یہ فارمولا یقینی طور پر ایک غیر حقیقی فارمولا ہے۔ وہ عملی طور پر نہ کبھی ممکن ہوا اور نہ آئندہ وہ کبھی ممکن ہو سکتا ہے ۔ مزید یہ کہ فرق کوئی عیب نہیں ، بلکہ وہ ایک خوبی ہے۔ وہ مذہبی فکر میں ارتقا کا ذریعہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں صرف ایک ہی فارمولا ہے جو مفید اور قابل عمل ہے، اور وہ فارمولا وہ ہے جو رواداری (tolerance) کے اصول پر مبنی ہے ۔ اس اصول کا خلاصہ یہ ہے — ایک کی پیروی کرو اور سب کا احترام کرو: Follow one and respect all.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader