Urdu book · حکمتِ اختلاف

سوال و جواب

Urdu book, p. 278

By Maulana Wahiduddin Khan

سوال آپ اپنی تحریروں اور تقریروں میں ہمیشہ ایڈجسٹمنٹ (adjustment) کی بات کرتے ہیں، آپ دوسروں کو تلقین کرتے ہیں کہ وہ نزاع کے موقع پر ایڈجسٹ (adjust) کرکے رہیں۔ مگر آپ کا اپنا عمل اس کے خلاف ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ دوسری اسلامی شخصیتوں سے جب آپ کا کوئی اختلاف ہوتا ہے تو آپ فوراً ان کے خلاف تنقید شروع کر دیتے ہیں۔ حالانکہ ایڈ جسٹمنٹ کے فلسفہ کے مطابق، آپ کو ان کی تنقید یا مخالفت نہیں کرنا چاہیے ۔ (ظہیر احمد صدیقی ندوی، لکھنؤ) جواب ایڈ جسٹمنٹ (adjustment) کا تعلق عمل سے ہے، نہ کہ قول سے۔ یعنی دو آدمیوں کے درمیان کسی معاملہ میں نزاع پیدا ہو تو اس کی وجہ سے انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے سے لڑنے لگیں ۔ انہیں قول کے دائرہ میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کے سامنے اپنے نقطۂ نظر کا اظہار کرنا چاہیے۔ اختلاف کو عملی ٹکراؤ تک نہیں لے جانا چاہیے۔ عملی ٹکراؤ سے ہمیشہ طرح طرح کے نقصانات پیدا ہوتے ہیں۔ مگر سنجیدہ قولی اختلاف غیر معمولی فائدوں کا باعث ہے۔ اگر کسی سماج میں قولی اختلاف یا تنقید کو ختم کر دیا جائے تو ایسے لوگوں کا ذہنی ارتقا رک جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں ظالم حکمراں کے خلاف قولی اعلان کو افضل جہاد بتایا گیا ہے۔ مگر اسی ظالم حکمراں کے خلاف عملی خروج یا پر تشد د مخالفانہ کارروائی کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page