Urdu book · حکمتِ اختلاف

خاتمه کلام

Urdu book, p. 279

By Maulana Wahiduddin Khan

خاتمہ کلام اختلاف ایک آزمایش اختلاف ایک پرچہ امتحان ہے۔ کسی سے آپ کا اختلاف پیدا ہو جائے تو سمجھ لیجیے کہ اللہ نے آپ کو ایک نازک آزمایش میں ڈال دیا تا کہ یہ جانے کہ آپ سچے مومن ہیں یا سچے مومن نہیں ہیں۔ اختلاف کو اختلاف کے دائرے میں رکھنا سچے اہل ایمان کا طریقہ ہے۔ جو لوگ اختلاف کو تخریب کاری کے درجے تک پہنچا دیں وہ بلاشبہ ایمان و اسلام کے دائرے سے نکل گئے۔ آدمی جب اختلاف کو اختلاف کے دائرے میں رکھے تو اس کا امکان ہوتا ہے کہ تبادلہ خیال کے دوران دونوں میں سے کسی کے اوپر سچائی کھل جائے اور اس طرح جو بھٹکے ہوئے مسافر کی مانند تھا وہ دوبارہ صحیح راستہ پر آ جائے۔ مگر جب ایک آدمی اختلاف کو تخریب کاری تک پہنچا دے تو اس کے بعد گمراہی کے گڑھے میں گرنے کے سوا کوئی انجام اس کے لیے باقی نہیں رہتا۔ ایسے آدمی کا دماغ منفی سوچ کا کارخانہ بن جاتا ہے۔ وہ دلیل اور الزام تراشی کے فرق کو سمجھنے کی اہلیت کھو دیتا ہے۔ وہ منصفانہ اختلاف کی حد سے گزر کر ظالمانہ اختلاف کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔ وہ خدا کی پکڑ کے احساس سے غافل ہو جاتا ہے۔ وہ صرف اپنی انا (ego) کورہنما بنا لیتا ہے۔ اب اس کا مقصد حق کو قائم کرنا نہیں ہوتا بلکہ صرف اپنی ذات کو قائم کرنا اس کا اول و آخر مقصد بن جاتا ہے۔ وہ خدا کی رحمت سے دور ہو کر پوری طرح شیطان کی گرفت میں آ جاتا ہے۔ اختلاف پیدا ہونا بالکل فطری ہے۔ مگر اختلاف کو تخریب کاری بنانا سراسر ظالمانہ فعل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page