Urdu book · حکمتِ اختلاف

رواداری کا اصول

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

غلط ہے، کیوں کہ وہ قابل عمل نہیں۔ اگر آپ پھول کے ساتھ کانٹے کو پسند نہ کرتے ہوں تو آپ ایسا نہیں کر سکتے کہ کانٹوں کو توڑ کر کانٹوں کا خاتمہ کر دیں۔ کیوں کہ آپ ڈالی کا ایک کانٹا توڑیں گے تو اس کی جگہ دوسرا کانٹا نکل آئے گا۔ حتی کہ اگر آپ تمام پھولوں پر بلیڈ وزر چلا دیں تب بھی جو نیا درخت اُگے گا اس میں دوبارہ پھول کے ساتھ کانٹے بھی ضرور موجود ہوں گے۔ اس دنیا میں کانٹوں کو گوارا کر کے ہی پھول کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اختلافات کو برداشت کر کے ہی پر امن سماج بنایا جا سکتا ہے۔ اس دنیا میں اختلاف کے باوجود متحد ہونے سے اتحاد حاصل ہوتا ہے ، نہ کہ اختلاف کو مٹا کر متحد ہونے سے۔ کیوں کہ اختلاف کو مٹانا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ امن کی زندگی کو حاصل کرنے کا واحد راز ہے— بے امنی کو گوارا کرنا۔ دنیا میں فرق اور اختلاف ہونا کوئی برائی کی بات نہیں۔ یہ ایک مثبت خصوصیت ہے اور اس کے بہت سے بڑے بڑے فائدے ہیں ۔ باغ حیات کی خوشنمائی کے لیے ضروری ہے کہ اس میں اتحاد کے پھول کے ساتھ اختلاف کا کانٹا بھی پایا جائے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ انسانوں میں اعلیٰ اخلاقیات کی تربیت ہوتی ہے۔ اپنے ہم خیال لوگوں کے درمیان اگر آپ خوش اخلاق ہوں تو آپ نے محض ابتدائی اخلاق کا ثبوت دیا۔ لیکن اگر آپ ان لوگوں کے درمیان خوش اخلاقی کا رویہ اختیار کریں جو آپ سے الگ خیال رکھتے ہیں یا آپ کے ناقد ہیں تو آپ نے یہ استحقاق حاصل کیا کہ آپ کو اعلیٰ اخلاقی سلوک کا کریڈٹ دیا جائے۔ اسی طرح اگر سماج میں تمام لوگ بالکل ایک رائے کے ہوں ۔ ان میں کوئی اختلافی بحث نہ پیدا ہوتی ہو تو ایسا سماج پتھر کے اسٹیچو کا سماج بن جائے گا۔ اس کے درمیان رہنے والوں کی فکری ترقی رک جائے گی۔ فکری ترقی ہمیشہ افکار کے ٹکراؤ کے درمیان ہوتی ہے۔ پھر جہاں افکار کا ٹکراؤ ہی نہ ہو وہاں فکری ترقی کس طرح ہوسکتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page