Urdu book · حکمتِ اختلاف

رواداری کا اصول

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

نزاع اور اختلاف کے مقابلہ میں رواداری کا طریقہ اختیار کرنا کوئی انفعالی (passive) صفت نہیں۔ یہ عین ایجابی (positive) صفت ہے۔ زندگی کی تعمیر میں اختلافات کا نہایت اہم رول ہے۔ اختلافات کے عمل کے دوران ہی اعلیٰ انسانی شخصیت بن کر تیار ہوتی ہے۔ اگر انسانی سماج سے اختلاف کی حالت کو ختم کر دیا جائے تو اس کے بعد اعلیٰ شخصیتوں کا بننا بھی یقینی طور پر رک جائے گا۔ اس دنیا میں کوئی بھی انسان کامل نہیں ہوتا۔ ہر آدمی کا یہ حال ہوتا ہے کہ اس میں ایک صفت ہوتی ہے تو دوسری صفت اس کے اندر نہیں ہوتی۔ یہ بھی ایک سبب ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے درمیان فرق اور اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ مگر اجتماعی زندگی کے لیے یہ اختلاف ایک رحمت ہے۔ کیوں کہ اسی اختلاف کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایک آدمی کی کمی کو دوسرا آدمی پورا کرے ۔ ایک کی خصوصیت دوسرے کے کام آئے۔ اگر لوگوں کے اندر ایک دوسرے کے اختلاف کو گوارا کرنے کا مزاج ہو تو یہ اختلاف مجموعی انسانی ترقی کا ایک طاقتور وسیلہ بن جائے گا۔ 1947 کے بعد جب انڈیا میں پہلی آزاد حکومت بنی تو اس میں دو اہم لیڈر شامل تھے۔ ایک پنڈت جواہر لال نہرو (وفات 1964)، دوسرے سردار ولھ بھائی پٹیل (وفات 1950)۔ پنڈت نہرو کے اندر مغربیت تھی اور سردار پٹیل کے اندر مشرقیت ۔ اس بنا پر دونوں لیڈروں میں اکثر رائے کا اختلاف ہو جاتا تھا ۔ مگر یہ اختلاف قوم کے لیے نہایت مفید ثابت ہوا۔ کیوں کہ پنڈت نہرو کی صلاحیت سے سردار پٹیل کی کمی پوری ہوئی، اور سردار پٹیل کی صلاحیت پنڈت نہرو کی کمی کو پورا کرنے کا ذریعہ بن گئی۔ یہ ایک قریبی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رائے اور طبیعت کا اختلاف انسانیت کی عمومی ترقی کے لیے کتنا زیادہ ضروری ہے۔ رواداری کی خصلت آدمی کو اس سے بچاتی ہے کہ وہ اپنے وقت اور اپنی صلاحیت کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page