حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
متحد ہو جائیں ۔ یعنی اختلاف رائے کے باوجود مشترک نشانے کی خاطر لوگوں کا عملی متحد ہو جانا ۔ ہر انسان ایک مستقل شخصیت کا حامل ہوتا ہے۔ ہر انسان کا زاویہ نظر (angle of vision) الگ الگ ہوتا ہے۔ اس لیے اجتماعی جدوجہد میں کبھی ایسا نہیں ہوسکتا کہ افراد کے درمیان کلی طور پر رایوں کا اتحاد ہو جائے ۔ بلکہ لوگوں کے درمیان اتحاد اس سوچ کی بنیاد پر ہوتا ہے کہ کسی عظیم مقصد کے لیے اجتماعی کوشش کی جائے۔ یہ اس وقت ممکن ہے جب کہ لوگ انفرادی سطح پر اپنی رایوں کو اپنی ذات کی حد تک محدود رکھیں، اور اجتماعی جدوجہد کے معاملے میں سب مل کر ایک نشانہ کے لیے کوشش کریں۔ عملی معنوں میں اسی کا نام اتحاد ہے۔ یہی طریقہ ممکن ہے، اور یہی طریقہ فطرت کے قانون کے مطابق ہے۔ ایک روایتی قصہ میں بتایا جاتا ہے کہ ایک شخص کے کئی بیٹے تھے۔ جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو بلایا، اور ان کو ایک بٹی ہوئی رسی دی کہ اس کو توڑو ۔ لڑکے اس رسی کو توڑ نہیں پائے ۔ پھر اس نے رسی کو کھول دیا، اور ہر بیٹے کورسی کی ایک ایک لڑی دی۔ اب ہر ایک نے آسانی سے اس کو توڑ دیا۔ اس کے بعد باپ نے کہا کہ دیکھو، اگر تم متحد رہو گے تو کوئی تم کو توڑ نہیں پائے گا، لیکن اگر تم الگ ہو جاؤ تو کوئی بھی شخص تم کو آسانی سے توڑ ڈالے گا۔ اختلاف کو حل کرنے کی تدبیر قدیم زمانہ میں کہا جاتا تھا کہا: الحزب أَنْفى للْحزب (جنگ کا توڑ جنگ ہے )۔ یہ فکر ہزاروں برس سے انسان کے اندر چلا آرہا تھا۔ بدقسمتی سے یہی فکر تاریخی تسلسل کے نتیجہ میں خود مسلمانوں میں کسی نہ کسی طور پر جاری رہا۔ حضرت عثمان کی شہادت سے لے کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader