Urdu book · حکمتِ اختلاف

حکمتِ اختلاف

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

غیر ضروری چیز میں ضائع کرنے لگے۔ جب آپ کسی دوسرے کے خلاف مزاج بات سے منفی اثر قبول کر لیں تو آپ کا ذہنی اعتدال بگڑ جائے گا۔ اس کے برعکس، جب اس طرح کی صورت پیش آنے پر آپ اس کا منفی اثر نہ لیں تو آپ کا ذہنی اعتدال پوری طرح برقرار رہے گا۔ آپ اپنا ایک لمحہ کھوئے بغیر ایک نارمل انسان کی طرح ہمیشہ اپنا کام جاری رکھیں گے۔ رواداری اور تحمل کی پالیسی آپ کی کارکردگی کی عمر کو بڑھاتی ہے اور نارواداری اور عدم تحمل کا رویہ آپ کی کارکردگی کی عمر کو گھٹا دیتا ہے۔ رواداری یا ٹالرنس کوئی مجبورانہ فعل نہیں، وہ زندگی کا ایک مثبت اصول ہے۔ یہ ایک اعلیٰ انسانی کردار ہے۔ کسی سماج میں روادار انسانوں کا ہونا ایسا ہی ہے جیسے کسی باغ میں پھولوں کا ہونا۔ پھول کے بغیر باغ نہیں، اسی طرح روادار انسانوں کے بغیر ترقی یافتہ سماج نہیں۔ (آل انڈیا ریڈیو ممبئی سے 3 مارچ 1995 کو نشر کیا گیا) اتحاد کی نفسیات اتحاد واتفاق کسی بڑے کام کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ مگر اتحاد کبھی مطلق معنوں میں پیدا نہیں ہوتا۔ یعنی ٹیم یا گروپ کے تمام افراد کی سوچ ایک ہو، اور اس بنا پر ان کے اندر اتحاد قائم ہو جائے ۔ فطرت کے قانون کے مطابق ایسا ہونا ممکن نہیں۔ اتحاد ہمیشہ پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے، نہ کہ مطلق وزڈم (absolute wisdom) کی بنیاد پر۔ اصل یہ ہے کہ اتحاد کبھی اتفاق رائے کی بنیاد پر قائم نہیں ہوتا، بلکہ اتحاد اس وقت قائم ہوتا ہے، جب کہ لوگوں کے سامنے ایک مشترک نشانہ (goal) ہو، اور اس مشترک نشانے کے حصول کے لیے مختلف لوگ اپنی ذاتی رایوں کو الگ رکھ کر مشترک نشانے کی بنیاد پر عملاً

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page