Urdu book · حکمتِ اختلاف

اختلاف کو حل کرنے کی تدبیر

Urdu book, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اسی تدبیر کا عملی نمونہ ہے۔ مثال کے طور پر آپ نے قدیم مکہ میں 610 ء میں لوگوں کو توحید کا پیغام دینا شروع کیا تھا۔ اس وقت توحید کے نقطۂ نظر سے مکہ میں سب سے زیادہ سنگین مسئلہ یہ تھا کہ توحید کے گھر (کعبہ) میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ مگر اس وقت قرآن میں اس مفہوم کی کوئی آیت نہیں اتری: طَهِّرُ الْكَعْبَةَ مِنَ الْأَصْنَامِ (کعبہ کو بتوں سے پاک کرو)۔ بلکہ اس کے بجائے قرآن میں یہ آیت اتری: وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ (74: 4)۔ یعنی، اپنے اخلاق کو درست کرو۔ اس قرآنی اصول پر عمل کرتے ہوئے پیغمبر اسلام نے یہ کیا کہ آپ نے مکہ کے تیرہ سالہ قیام کے زمانہ میں کبھی بتوں کو توڑنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ لوگوں کو توحید کا پیغام دینے کی پرامن جدوجہد شروع کردی۔ پیغمبر اسلام کی زندگی میں اس قسم کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ ان میں ایک نمایاں مثال صلح حدیبیہ 628 ء کا واقعہ ہے۔ صلح گویا ڈیفرنس مینجمنٹ (difference management) کی ایک کامیاب مثال تھی جو انسانی تاریخ میں غالباً پہلی بار نہایت کامیابی کے ساتھ قائم کی گئی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو سخت انتباہ دیا تھا کہ اختلاف خواہ کتنا ہی بڑا ہو وہ ہر حال میں ڈیفرنس مینجمنٹ کے اُصول پر اس کو حل کرے۔ کسی بھی حال میں وہ ایسا نہ کرے کہ اتحاد کے نام پر اختلاف کو مٹانے کی کوشش کرے ۔ حدیث کے مجموعوں میں کتاب الفتن کے تحت کثرت سے اس قسم کی روایتیں آئی ہیں جن میں یہ کہا گیا ہے کہ میرے بعد امرا اور حکام کے اندر بگڑ آئے گا مگر تم ہرگز ان سے ٹکراؤ نہ کرنا۔ تم ظلم کے باجود ان کا حق ادا کرنا اور اپنے حق کے لیے اللہ سے دعا کرنا (أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052۔ اس معاملہ میں ایک حدیث وہ ہے جو ابو داود، الترمذی، ابن ماجہ اور مسند احمد میں آئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page