مقدمہ
Urdu book, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
مقدمہ اختلاف، زندگی کی ایک ایسی ناقابلِ انکار حقیقت ہے جس سے راہِ فرار ممکن نہیں۔ اختلاف کا مطلب ہے: الگ رائے رکھنا، نظریاتی فرق رکھنا، جدا سوچنا۔ یہ انسان کی انفرادیت، شعور اور آزادی فکر کی علامت ہے۔ اگر سب انسان ایک ہی طرزِ پر سوچنے لگیں تو انسانی تہذیب و تمدن کا ارتقائی سفر رک جائے۔ یہی اختلاف ہے جو تحقیق کو جنم دیتا ہے، نئے نظریات کو پروان چڑھاتا ہے، اور سچائی تک رسائی کے نئے دروازے کھولتا ہے۔ مشہور فقیہ و محدث امام سفیان ثوریؒ (97-161 ہجری) کا ایک قول اس حوالے سے نہایت بصیرت افروز ہے: ”ما اختلف فيه الفقهاء، فلا أنهى أحدا من إخواني أن يأخذ بہ“ (الفقیہ والممتفقہ، خطیب بغدادی، جلد 2، ص 135) یعنی ”جس مسئلہ میں فقہا کا اختلاف ہو چکا ہو، اس میں میں اپنے ساتھیوں کو اس بات سے منع نہیں کرتا کہ وہ دوسری رائے کو اختیار کریں۔“ اسی طرح میں وہ اپنے شاگردوں کو یہ نصیحت کیا کرتے تھے: ”إذا رأيت الرجل يعمل الْعَمَلَ الَّذِي قَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ، وَأَنْتَ تَرَى غَيْرَهُ، فَلَا تَنْهَهُ“ (الفقیہ والممتفقہ، خطیب بغدادی، جلد 2، ص 136)۔ یعنی ”جب تم کسی شخص کو ایسے عمل پر کاربند دیکھو جس میں اختلاف واقع ہو چکا ہو اور تمہاری رائے اس کے خلاف ہو، تو اُسے منع مت کرو۔“ یہ اقوال اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اختلاف بذاتِ خود کوئی برائی نہیں۔ اختلاف اس وقت فساد بن جاتا ہے جب اس کے اظہار کا طریقہ غیر اخلاقی ہو— مثلاً الزام تراشی، نفرت، تعصب، اور طعن و تشنیع۔ ایسا رویہ نہ صرف دینی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ عقل و دانش کے بھی منافی ہے۔ اس کے برعکس، اگر اختلاف کو نرمی، ادب، دلیل اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader