حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
دونوں میں سے آسان تر کا انتخاب کیا۔ اس حدیث رسول کی شرح ایک اور حدیث سے ہوتی ہے۔ اس دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں: مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيْہِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2317)۔ یعنی آدمی کے اچھے اسلام میں سے یہ ہے کہ وہ اس کو چھوڑ دے، جو اس کے لیے بے نتیجہ ہو۔ یہ حدیث اجتماعی زندگی کے بارے میں ہے۔ اجتماعی زندگی، خواہ وہ گھریلو معاملات ہو یا وہ سوشل معاملات ہو، اس میں کام کے دو طریقے ہیں۔ اجتماعی معاملات میں جب کوئی مسئلہ پیش آئے، تو ایک طریقہ وہ ہے، جو مجرد ری ایکشن (reaction) ہو۔ مثلاً کسی نے آپ کی طرف پتھر مارا، تو آپ بھی اس کی طرف پتھر پھینکنا شروع کردیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ ٹھہر کر سوچیں، اور پلاننگ کے بعد نتیجہ خیز اقدام کا طریقہ اختیار کریں۔ اس طرح کے معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ طریقہ اختیار کیا جائے، جو نتیجہ خیز (result oriented) ہو۔ مثلاً مکہ میں آپ نے توحید کا مشن شروع کیا، تو اس وقت قدیم کعبہ میں بہت سے بت رکھے ہوئے تھے، یعنی بظاہر یہ صورتِ حال تھی کہ توحید کے مرکز کو بت پرستی کا مرکز بنا دیا گیا تھا۔ لیکن رسول اللہ نے ردِ عمل (reaction) کا طریقہ نہیں اختیار کیا، بلکہ سوچ سمجھ کر کے پر امن تدبیر کا طریقہ اختیار کیا۔ اگر آپ ردِ عمل کا طریقہ اختیار کرتے تو قدیم مکہ کے مشرکین سے ٹکراؤ شروع ہوجاتا۔ لیکن آپ نے خاموش منصوبہ بندی کے ذریعے غیر نزاعی پلاننگ کا طریقہ اختیار کیا۔ یہ ایک نتیجہ خیز طریقہ تھا۔ چنانچہ اس کے نتیجے میں کعبہ کی عمارت بتوں سے خالی ہوگئی، اور بتدریج دوبارہ توحید کا مرکز بن گئی۔ منفی جذبات کی قربانی دین کی راہ میں قربانی کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ کیوں کہ قربانی کے بغیر دین کا کوئی بڑا کام نہیں کیا جاسکتا۔ یہ صرف دین کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ سماج کا کوئی بھی تعمیری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader