Urdu book · حکمتِ اختلاف

حکمتِ اختلاف

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

يَضْرِبُكَ زَيْدٌ“،”تُرِيدُ لَا تَضْرِبْهُ، وَجَازَ ”لَا يَضَارُبَنَّكَ زَيْدٌ“ بِمَعْنَى لَا تَضْرِبْهُ، وَذَلِكَ لِأَنَّ الْمُنَازَعَةَ وَالْمُخَاصَمَةَ لَا تَتِمُّ إِلَّا بِاثْنَيْنِ، فَإِذَا تَرَكَ أَحَدُهُمَا ذَهَبَتِ الْمُخَاصَمَةُ (تفسیر المظهری، جلد 6، صفحہ 346)۔ یعنی زجاج نے کہا بظاہر نزاع کی ممانعت مشرکوں کو ہے، لیکن حقیقت میں ممانعت کا رخ رسول اللہ کی طرف ہے۔ عرب کہتے ہیں فلاں شخص تم سے جھگڑا نہ کرے، یعنی تم اس سے جھگڑا نہ کرو۔ لیکن ایسا ان افعال میں ہوتا ہے جو طرفین سے صادر ہوں۔ پس... لَا يَضَارِبَنَّكَ زَيْدٌ (زید تم سے مار پیٹ نہ کرے) کا مطلب یہ ہے کہ تم زید کو نہ مارو۔ کیوں کہ مخاصمت اور نزاع دو آدمیوں کے درمیان ہوتا ہے۔ جب ایک فریق نزاع ترک کر دے تو مخاصمت اپنے آپ باقی نہیں رہتا۔ اس اصول کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ نزاع (controversy) پیدا ہو تو اس کو جوابی نزاع تک پہنچنے نہ دو۔ بلکہ اس پر نزاع مینجمنٹ کے حکیمانہ اصول کو اپلائی کرتے ہوئے پہلے ہی مرحلے میں ختم کر دیا جائے۔ نزاع عملاً ایک فریق کی طرف سے پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اگر فریق ثانی نزاع کو یک طرفہ طور پر ختم کر دے تو نزاع عملاً باقی نہیں رہے گا۔ نزاع اگرچہ دو طرفہ عمل ہے، لیکن نزاع کو ختم کرنا، ہمیشہ ایک فریق کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ مینجمنٹ نہ کہ ردِ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ سنتیں ایسی ہیں، جو آپ کے قول سے نکلتی ہے، اور کچھ سنتیں ایسی ہیں، جو آپ کے عمل سے اخذ ہوتی ہیں۔ مثلاً ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آتی ہے: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: مَا خُيِّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6786)۔ یعنی، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو معاملات کے درمیان اختیار دیا گیا، تو آپ نے ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page