Urdu book · حکمتِ اختلاف

اختلاف کے وقت

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

اختلاف کے وقت اختلاف زندگی کا ایک حصہ ہے۔ مختلف اسباب سے لوگوں کے درمیان اختلاف ہوتا رہتا ہے۔ جس طرح عام لوگوں کے درمیان اختلاف ہوا ہے، اسی طرح مخلص اور مومن کے درمیان بھی اختلاف پیش آتا ہے۔ اختلاف کے ہونے کو روکا نہیں جا سکتا۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ اختلاف کے باوجود آدمی اپنے آپ کو صحیح رویہ پر قائم رکھے۔ مومن وہ ہے جو اختلاف کو نیت کا مسئلہ نہ بنائے۔ اختلاف کو اسی دائرہ تک محدود رکھے جہاں اختلاف پیدا ہوا ہے۔ ایک معاملہ میں اختلاف کی وجہ سے کسی کو ہر معاملہ میں غلط سمجھ لینا، ایک معاملہ میں اختلاف پیش آنے کے بعد اس کو منافق، بد نیت اور غیر مخلص کہنے لگنا، یہ سراسر غیر اسلامی طریقہ ہے۔ اختلاف پیش آنے کے وقت تعلقات ختم کرنا صحیح نہیں۔ اختلافی مسئلہ پر سنجیدہ بحث جاری رکھتے ہوئے باہمی تعلقات کو بدستور قائم رکھنا چاہیے۔ اختلاف والے شخص سے سلام و کلام بند کرنا یا اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چھوڑ دینا کسی بھی حال میں درست نہیں۔ موجودہ دنیا میں ہر چیز برائے امتحان ہوتی ہے۔ اسی طرح اختلاف بھی امتحان کے لیے ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اختلاف کے وقت سخت محتاط رہے۔ وہ مسلسل کوشش کرے کہ اس سے کوئی ایسا غلط ردعمل ظاہر نہ ہو جو اللہ کو پسند نہیں۔ اختلاف کے وقت انصاف پر قائم رہنا بلاشبہ ایک مشکل کام ہے۔ مگر اس کا ثواب بھی بہت زیادہ ہے۔ اسلام میں ہر درست کام عبادت ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک اعلیٰ عبادت ہے کہ اختلاف اور نزاع کی صورت پیش آنے کے باوجود آدمی اپنے دل کو دشمنی اور انتقام کی نفسیات سے بچائے، اختلاف کے باوجود وہ انصاف کی روش پر قائم رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page