Urdu book · حکمتِ اختلاف

حکمتِ اختلاف

Urdu book, p. 63

By Maulana Wahiduddin Khan

اختلاف پیش آنا برا نہیں ، برا یہ ہے کہ اختلاف پیش آنے کے بعد آدمی امتحان میں پورا نہ اترے۔ اختلاف کے وقت تقویٰ کی حد میں رہنا عظیم اسلامی عمل ہے ، اور اختلاف کے وقت تقویٰ کی حد سے نکل جانا انتہائی سنگین قسم کا غیر اسلامی عمل۔ کامیابی کا راز ایک امام صاحب کا واقعہ ہے۔ وہ اپنی مسجد میں جمعہ کا خطبہ دیتے تھے۔ خطبے سے پہلے وہ اردو میں تقریر کرتے تھے۔ اس تقریر میں وہ اکثر یہ کرتے کہ اختلافی مسائل میں شدید رویہ اختیار کرتے۔ وہ اپنی سمجھ کے مطابق ، جس مسلک کو درست سمجھتے تھے ، اس کے مخالف مسلک پر وہ شدید تنقید کرتے۔ اس پر نمازیوں کی بڑی تعداد امام صاحب کے خلاف ہوگئی۔ لوگ کہنے لگے کہ ان کو خطیب کے مقام سے ہٹا دینا چاہیے۔ میری ملاقات امام صاحب سے ہوئی تو گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ آپ اس طرح کی تنقیدی تقاریر میں کیوں کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو حق اور ناحق کا معاملہ ہے۔ اگر میں اس معاملے میں نہ بولوں تو میں گناہ گار ہو جاؤں گا۔ میں نے کہا کہ آپ کی سوچ درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اجتماعی معاملات میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حق اور ناحق کو نہیں دیکھا جاتا ، بلکہ ممکن اور ناممکن کو دیکھا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی آپ کا طریقہ تھا۔ میں نے مثالیں دے کر امام صاحب کو سمجھایا تو وہ میری بات مان گئے۔ اس کے بعد انھوں نے تنقیدی طریقہ چھوڑ دیا اور حکیمانہ انداز میں اپنی بات بیان کرنے لگے۔ یہ زندگی کا ایک اہم اصول ہے۔ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ حکمت کی اہمیت ہوتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page