تنقید و اختلاف
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
عمل بات یہ ہے کہ تنقید کو گوارا کرو، اختلافِ رائے کو برداشت کرو تا کہ امت میں اتحاد ہو سکے۔ کسی قوم میں اتحاد ہمیشہ اسی دوسرے اصول کی بنیاد پر ہوتا ہے، اور امتِ مسلمہ میں بھی اتحاد اسی بنیاد پر ہوگا۔ اس کے سوا اتحاد کی دوسری کوئی صورت نہیں۔ صحابہ و تابعین کے درمیان اختلافات تھے۔ اسی طرح محدثین، فقہا، علما اور صوفیا، ان سب کے درمیان کثرت سے اختلافات تھے۔ حتیٰ کہ قرآن سے ثابت ہے کہ دنیا میں بیک وقت دو پیغمبر ہوں تو ان کے درمیان بھی کبھی اختلاف ہو جاتا ہے (92-94 : 20)۔ ایسی حالت میں اختلاف کو ختم کر کے اتحاد قائم کرنے کی شرط نہ صرف غیر فطری ہے بلکہ وہ غیر شرعی بھی ہے۔ تنقید و اختلاف میں کوئی برائی نہیں۔ وہ فکری ارتقا کا ذریعہ بنتی ہے۔ مثال کے طور پر غزوۂ بدر کے موقع پر ایک صحابی حباب بن منذر نے پیغمبر سے اختلاف کیا۔ اس کے نتیجہ میں زیادہ بہتر میدانِ جنگ کا انتخاب ممکن ہو گیا، وغیرہ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 620)۔ اصل یہ ہے کہ انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک طالبِ خویش اور دوسرا طالبِ حق۔ طالبِ خویش اپنی ذات میں جیتا ہے۔ اس کی ساری دلچسپی اس میں ہوتی ہے کہ اس کی اپنی شخصیت نمایاں ہو۔ اس کی بڑائی تسلیم کی جائے۔ یہی وہ آدمی ہے جو تنقید و اختلاف سے بھڑکتا ہے۔ کیوں کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ تنقید اس کی شخصی عظمت کو گھٹا رہی ہے۔ طالبِ حق کی نفسیات اس سے بالکل جدا ہوتی ہے۔ وہ صرف حق کا طالب ہوتا ہے۔ وہ تنقید کو اپنی ذات پر حملہ نہیں سمجھتا۔ وہ تنقید کو صرف اس نظر سے دیکھتا ہے کہ وہ حق ہے یا ناحق۔ تنقید اگر غلط ہے تو وہ سادہ طور پر اسے نظر انداز کر دیتا ہے۔ لیکن تنقید اگر برحق ہے تو وہ فوراً اس کو قبول کر لے گا۔ کیونکہ ایسی تنقید میں اس کو عین وہی چیز ملتی ہوئی نظر آئی جو پہلے سے اس کا مطلوب و مقصود تھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader