Urdu book · حکمتِ اختلاف

حکمتِ اختلاف

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

بلکہ رایوں کے کثرت کو توسیع پر محمول کرتے ہوئے ہرایک کا احترام کیا جائے۔ اس کے علاوہ، اس کا ایک مزید مثبت پہلو بھی ہے۔ اس معاملے کی طرف ایک روایت میں اشارہ کیا گیا ہے: اِخْتِلَافُ أُمَّتِی رَحْمَةٌ (المقاصد الحسنۃ للسخاوی، حدیث نمبر 39)۔ یعنی میری امت کا اختلاف ایک رحمت ہے۔ اختلاف سادہ طور پر صرف اختلاف نہیں، وہ رائے میں فرق کا نام ہے۔ اختلاف بند ذہن کو کھولتا ہے۔ رایوں کا فرق (difference of opinions) لوگوں کے اندر ڈسکشن اور ڈائیلاگ کا ماحول پیدا کرتا ہے، وہ فکری ارتقا کا ذریعہ ہے۔ یہ اختلاف کا صحت مند پہلو ہے۔ اگر لوگوں میں رائے کا اختلاف نہ ہو تو ایسے گروہ کے اندر ذہنی جمود پیدا ہو جائے گا۔ اس کے برعکس، جہاں رائے میں فرق پایا جائے، وہاں ذہنی ارتقا کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس معاملے میں اصل اہمیت کی بات یہ ہے کہ لوگوں کے اندر علمی ذوق ہو۔ اُن کے اندر طلب پائی جائے۔ وہ کسی تعصب کے بغیر تبادلہ خیال کرنا جانتے ہوں۔ جن لوگوں کے اندر یہ مزاج ہو، اُن کے لیے اختلاف فکری ارتقا کا ذریعہ بن جائے گا، وہ لوگوں کے اندر تخلیقی صلاحیت پیدا کرنے کا باعث بنے گا، نہ کہ ذہنی جمود اور انتشار پیدا کرنے کا سبب۔ تنقید و اختلاف تنقید کو بند کرو، اختلافِ رائے کو ختم کرو، تا کہ اُمت میں اتحاد ہو سکے ـ یہ جملہ گرامر کے اعتبار سے درست ہے، مگر وہ حقیقت کے اعتبار سے بالکل بے معنی ہے۔ کیوں کہ تنقید و اختلاف انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہے، اس لیے وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ زیادہ صحیح اور قابل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page