Urdu book · حکمتِ اختلاف

حکمتِ اختلاف

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں ۔ ان انسانی بڑوں کے لیے انھوں نے مبتدعانہ طور پر ”اکابر“ کا لفظ وضع کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنی محبوب شخصیتوں پر تنقید سے بھڑک اٹھتے ہیں۔ دین میں معیار بہر حال اصحاب رسول ہیں۔ مسلمان اگر اس کے سوا کوئی اور معیار بنائیں تو وہ بلا شبہ بدعت ہے، اور بدعت اسلام میں مقبول نہیں۔ اختلاف کا مسئلہ مسلمانوں کے اندر بڑے پیمانے پر مذہبی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ یہ اختلاف بڑھ کر کبھی تشدد کی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ان اختلافات کا سبب مدارس کا نصاب ہے۔ ان کے خیال کے مطابق، اگر مدارس کے نصاب میں اصلاح کردی جائے تو اختلاف کا خاتمہ ہو جائے گا اور لوگوں کے اندر اتحاد و اتفاق کی حالت قائم ہو جائے گی۔ مگر یہ اصل صورتِ حال کا کم تر اندازہ (underestimation) ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اختلاف کا سبب فطرتِ انسانی میں ہے، نہ کہ مدارس کے نصاب میں۔ پیدائش کے اعتبار سے، ہر مرد مسٹر ڈفرنٹ (Mr. Different) ہوتا ہے اور ہر عورت مس ڈفرنٹ۔ یہی فطری فرق اختلاف کا اصل سبب ہے۔ اگر تمام مدارس کا نصاب ایک کر دیا جائے تب بھی اختلاف باقی رہے گا، کیوں کہ خواہ نصاب کی سطح پر اختلاف نہ ہو تب بھی فطرت کی سطح پر اختلاف موجود رہے گا، وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ حضرت علی (وفات 40ھ) اور حضرت معاویہ (وفات 60ھ) دونوں ایک ہی مدرسہ، مدرسہ نبوت، کے تعلیم یافتہ تھے، اس کے باوجود دونوں میں اختلاف پیدا ہوا۔ ابو الحسن اشعری (وفات 936ء) معتزلی عالم ابو علی الجبائی (وفات 916ء) کے شاگرد تھے، اس کے باوجود دونوں میں اختلاف پیدا ہوا۔ موجودہ زمانے میں سرسید احمد خاں (وفات 1898ء) اور مولانا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page