Urdu book · حکمتِ اختلاف

اختلاف کا مسئلہ

Urdu book, p. 70

By Maulana Wahiduddin Khan

قاسم نانوتوی (وفات 1880ء) دونوں ایک ہی مدرسہ کے تعلیم یافتہ تھے، اس کے باوجود دونوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوا۔ مولانا شبیر احمد عثمانی (وفات 1949ء) اور مولانا حسین احمد مدنی (وفات 1957ء) دونوں ایک ہی مدرسہ کے تعلیم یافتہ تھے، اس کے باوجود دونوں میں اختلاف پیدا ہوا۔ مولانا سید سلیمان ندوی (وفات 1953ء) اور مولانا مسعود علی ندوی (وفات 1967ء) دونوں ایک ہی مدرسہ کے تعلیم یافتہ تھے، اس کے باوجود دونوں میں اختلاف پیدا ہوا۔ اصل یہ ہے کہ خواہ دو آدمیوں نے ایک ہی مدرسہ اور ایک ہی نصاب کے تحت تعلیم پائی ہو، لیکن طرزِ فکر (way of thinking) کی سطح پر ہمیشہ ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ یہی فرق ہے جو اختلاف کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ بڑھ کر نفرت اور تشدد تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ اختلاف یا فرق چونکہ فطرت انسانی کا حصہ ہے، اس لیے وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ ایسی حالت میں اختلاف کے مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ ناکام طور پر اس کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے، بلکہ اس کا حل یہ ہے کہ لوگوں کو اُس اصول کی تعلیم دی جائے جس کو "اختلاف کے باوجود اتحاد" کہا جاتا ہے۔ یعنی رائے (opinion) کی سطح پر اختلاف، سماجی تعلق (social relationship) کی سطح پر اتفاق۔ انسانوں کے طرزِ فکر میں اختلاف کوئی غیر مطلوب چیز نہیں، بلکہ وہ عین مطلوب ہے۔ کیوں کہ اس اختلاف کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان ڈسکشن اور ڈائیلاگ ہوتا ہے، اور ڈسکشن اور ڈائیلاگ ذہنی ارتقا کا ذریعہ ہے۔ جہاں ڈسکشن اور ڈائیلاگ نہ ہو، وہاں یقینی طور پر ذہنی جمود (intellectual stagnation) پیدا ہو جائے گا، اور ذہنی جمود سے زیادہ تباہ کن اور کوئی چیز انسان کے لیے نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page