کلیات کے بجائے جزئیات
Urdu book, p. 78
By Maulana Wahiduddin Khan
اس تعلیمی نظام سے جو لوگ تربیت پا کر نکلتے ہیں قدرتی طور پر ان کے ذہن پر کلیات شریعت سے زیادہ جزئیاتِ شریعت کا غلبہ رہتا ہے۔ وہ انہی اختلافی جزئیات میں اپنے مسلک کو برتر ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ اس کا برا انجام موجودہ زمانہ میں یہ نکلا ہے کہ یورپ، امریکہ میں مسلمانوں نے ان علما کو بطور امام اور مدرس بلایا تو وہاں پہونچ کر بھی انھوں نے یہی تمام جھگڑے چھیڑ دیے۔ ہمارے علما کے لیے یورپ اور امریکہ پہونچنا اس کا وسیلہ نہ بن سکا کہ وہ ان ملکوں میں اسلام کی فطری تعلیم مثبت انداز میں عام کرنے کا کام کریں۔ وہ وہاں بھی وہی کرتے رہے جس کی ٹریننگ انہوں نے اپنی درسگاہوں میں حاصل کی تھی۔ یعنی جزئی اختلافی امور کی بنیاد پر مسلمانوں میں فرقہ بندی پیدا کرنا۔ اس سلسلے کا ایک قابل عبرت واقعہ ہے، جو میں نے اپنی ڈائری (14 فروری 1998) میں ان الفاظ میں نقل کیا ہے : ”ایک دیوبندی عالم سے ملاقات ہوئی۔ دورانِ گفتگو انھوں نے بتایا کہ ایک بار ہمارے مدرسہ میں امتحان کے پرچہ میں ایک سوال یہ تھا کہ اخلاق اور معاشرت سے متعلق دو حدیث لکھیے۔ مگر بہت کم طلبہ اس کے جواب میں دو حدیث لکھ سکے۔ حالانکہ انہی طلبہ کا حال یہ تھا کہ رفع یدین اور اس قسم کے دوسرے اختلافی مسائل پر سوال ہو تو وہ اس کے جواب میں گھنٹوں تقریر کر سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان طلبہ کو جب حدیث کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں تو استاد اخلاق اور معاشرت جیسی حدیثوں کی صرف لفظی قرأت کر کے گزر جاتا ہے مگر جب رفع یدین اور آمین بالجہر جیسے اختلافی مسائل آتے ہیں تو وہ ان پر کئی کئی دن تک تقریر کرتا ہے اور ان پر اپنی معلومات کا دریا بہاتا ہے۔ یہ طریقۂ درس ظاہر ہے کہ اسی قسم کے علما پیدا کرے گا جس کا ذکر مذکورہ دیوبندی عالم نے کیا۔“

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader