کلیات کے بجائے جزئیات
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
اس لیے شریعت کے اس حصے میں فقہا کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر تمام فقہا اس پر متفق ہیں کہ فجر کی نماز دو رکعت، ظہر کی نماز چار رکعت اور مغرب کی نماز تین رکعت ہے۔ مگر نماز کے بعض جزئی مسائل مثلاً آمین ، رفع یدین اور قراءت خلف الامام کے معاملہ میں ان کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعد کے دور میں مسلمانوں کے درمیان جو مختلف فقہی مکاتب بنے ان کے الگ الگ ہونے کی بنیاد دراصل یہی اختلافی جزئیات تھیں۔ کلی نوعیت کے احکام میں الگ الگ فقہی مکتب بننے کا کوئی سوال نہیں۔ کیوں کہ ان امور میں ایک فقیہ اور دوسرے فقیہ کی رائے میں کوئی فرق ہی نہیں۔ ایک فقہی مکتب کو دوسرے فقہی مکتب سے جو چیز جدا کرتی ہے وہ دراصل اختلافی مسائل ہیں، نہ کہ اتفاقی مسائل۔ موجودہ زمانے میں ہندوستان میں جو دینی مدارس قائم ہوئے وہ کسی ایک یا دوسرے فقہی مکتب فکرم کے تحت قائم ہوئے۔ مثلاً کوئی مدرسہ دیوبندی مسلک کے تحت قائم ہوا اور کوئی بریلوی مسلک کے تحت اور کوئی سلفی مسلک کے تحت۔ ان مسالک کو جو چیز ایک دوسرے سے ممیز کرتی ہے وہ یہی اختلافی مسائل ہیں، نہ کہ اتفاقی مسائل۔ اس بنا پر عملاً یہ ہوا کہ ہر مدرسہ میں سب سے زیادہ زور اختلافی مسائل پر دیا جانے لگا۔ ہر مدرسہ کا مقصد یہ قرار پایا کہ وہ دوسرے مسلک کے بالمقابل اپنے مسلک کو قرآن وسنت سے صحیح ثابت کرے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا سارا تعلیمی نظام اختلافی جزئیات کے گرد گھومنے لگا۔ مثال کے طور پر ہماری موجودہ درس گاہوں کا یہ حال ہے کہ وہاں جب حدیث پڑھائی جاتی ہے تو توحید اور آخرت سے متعلق حدیثوں سے استاد اور شاگرد بالکل سرسری گزر جاتے ہیں۔ اور جہاں کوئی ایسی حدیث آگئی جس میں ایک مسلک اور دوسرے مسلک کے درمیان اختلاف کا پہلو پایا جاتا ہو وہاں استاد زبردست مہارت دکھاتا ہے، حتی کہ بعض اوقات اس پر ایک ایک ہفتے تک بحث ہوتی رہتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader