پانچ فقہی اسکول
Urdu book, p. 80
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک حصہ وہ ہے جس میں صحابہ کے درمیان کوئی فرق یا اختلاف نہیں پایا جاتا تھا۔ مثلاً ہر صحابی کے بارے میں یہ معلوم ہوا کہ انھوں نے فجر کی نماز دو رکعت پڑھی، ظہر اور عصر کی نماز انھوں نے چار رکعت پڑھی، مغرب کی نماز انھوں نے تین رکعت پڑھی، اور پھر عشا کی نماز انھوں نے چار رکعتوں کے ساتھ پڑھی۔ اس طرح نماز کا ایک پہلو وہ تھا جس کے بارے میں تمام صحابہ ایک ہی متعین طریقے کے پابند تھے، لیکن اسی کے ساتھ نماز کے بعض دوسرے پہلوؤں کے بارے میں فرق یا اختلاف پایا جاتا تھا۔ مثلاً کسی نے نماز شروع کرتے ہوئے اپنے سینے پر ہاتھ باندھے، اور کسی نے سینے کے نیچے ۔ قرآت فاتحہ کے بعد کسی نے آمین دھیرے سے کہی، اور کسی نے زور سے ۔ نماز کے دوران کسی نے اللہ اکبر کہتے ہوئے رفع یدین کیا، اور کسی نے نہیں کیا، وغیرہ۔ جمع حدیث کے دوران جب عبادت کے اختلافات سامنے آئے، تو اب یہ سوال اٹھا کہ ان اختلافات کی کیا توجیہ کی جائے۔ اختلافات کو مٹانا ممکن نہ تھا، کیوں کہ یہ اختلافات سب کے سب، اصحابِ رسول کی طرف سے آ رہے تھے، اور اصحابِ رسول وہ لوگ تھے جنھوں نے براہِ راست طور پر پیغمبر کی عبادت کا مشاہدہ کیا تھا۔ اُن کو مخاطب کرتے ہوئے پیغمبر نے کہا تھا: صَلُّوا کَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 631) ۔ ایسی حالت میں ہر طریقہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے مستند حیثیت رکھتا تھا۔ بظاہر یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کس بنیاد پر ایک طریقے کو لیا جائے اور دوسرے طریقے کو چھوڑ دیا جائے۔ اس موقع پر مسلم فقہا کی دو را ئیں ہوگئیں ۔ ایک رائے یہ تھی: اَلْحَقُّ لَا يَتَعَدَّدُ ( یعنی حق کئی نہیں ہو سکتا ) ۔ اس لیے ہمیں عملی طور پر یہ کرنا ہوگا کہ ہم یہاں ترجیح ( preference) کے اصول کو رائج کریں، یعنی کسی ایک رائے کو راجح قرار دینا، اور دوسری رائے کو مرجوح قرار دے کر اُس کو چھوڑ دینا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader