پانچ فقہی اسکول
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر اس کے باوجود مسئلہ باقی رہا، کیوں کہ ترجیح کا اصول ہمیشہ اجتہاد پر مبنی ہوتا ہے اور جہاں اجتہاد آیا، وہاں اختلافِ رائے لازماً آئے گا۔ چنانچہ ترجیح کے اس اصول کا نتیجہ عملی طور پر یہ ہوا کہ لوگوں کے درمیان کئی رائیں بن گئیں۔ ہر ایک نے اپنی رائے کی صحت پر اصرار کیا۔ چنانچہ کسی نے ایک رائے کو ترجیح (preference) دی اور کسی نے دوسری رائے کو، اور اس طرح لوگ کئی گروہ میں بٹ گئے۔ مختلف فقہی اسکول کے وجود میں آنے کا سبب یہی ہے۔ ترجیح کے اس اصول پر بحث کرتے ہوئے علما نے درست طور پر لکھا ہے کہ: مَذْھَبُنَا صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الْخَطَأَ وَمَذْھَبُ مُخَالِفِنَا خَطَاً يَحْتَمِلُ الصَّوَابَ (الفتاوى الكبرىٰ الفقهيّة لابن حجر مکی، جلد 4، صفحہ 313)۔ یعنی ہمارا طریقہ درست ہے، اس احتمال کے ساتھ کہ وہ غلط ہو۔ اور ہمارے مخالف کا طریقہ غلط ہے، اس احتمال کے ساتھ کہ وہ درست ہو۔ اس قول سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس معاملے میں فقہا کا اصولِ ترجیح کتنا زیادہ غیر منطقی (illogical) تھا۔ جب ایک رائے کو ترجیح دینے کے بعد بھی اس کی عدم صحت کا احتمال موجود ہے، اور اسی طرح جب ایک رائے کو ترک کرنے کے باوجود بھی اس کی صحت کا احتمال پایا جائے، تو ایسی ترجیح عملاً سراسر بے معنی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد یہ ناممکن ہو جاتا ہے کہ آدمی پر یقین کیفیت کے ساتھ اپنی عبادت کر سکے، جب کہ عبادت کے ساتھ یقین کا عنصر لازمی طور پر ضروری ہے۔ محدثین کا مسلک اس معاملے میں فقہا کے مسلک سے مختلف تھا، اور بلاشبہ وہی مسلک زیادہ درست تھا۔ محدثین کے نقطہ نظر کا اندازہ احمد بن حنبل (وفات 855ء) کے ایک واقعے سے ہوتا ہے۔ محمد بن عبد الرحمن صیرفی کہتے ہیں کہ میں نے احمد بن حنبل سے پوچھا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader