اختلاف، تنوع
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
اختلاف، تنوع قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى (92:4)۔ یعنی، تمہاری کوششیں الگ الگ ہیں۔ کائنات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کے مختلف اجزا میں بہت زیادہ تنوع (diversity) پایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود کائنات میں کامل توافق (harmony) موجود ہے۔ اس اعتبار سے کائنات ایک ماڈل ہے کہ کس طرح یہ ممکن ہے کہ کامل اختلاف کے باوجود آپس میں کامل اتحاد پایا جائے۔ انسانوں کے درمیان بھی اسی طرح اختلاف یا تنوع موجود ہے۔ مگر یہاں عملاً برعکس صورت حال پائی جاتی ہے۔ انسانوں کے درمیان اختلاف کی بنیاد پر ٹکراؤ ہے۔ اس کے نتیجہ میں انسانی سماج میں نفرت اور تشدد، یہاں تک کہ جنگ کی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے۔ کائنات کے دو حصوں میں یہ فرق کیوں۔ غیر انسانی حصہ کائنات میں اختلاف کے باوجود اتحاد پایا جاتا ہے۔ جب کہ انسانی دنیا میں اختلاف لوگوں کے درمیان ٹکراؤ کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنی خواہش پر چلتا ہے، کائنات کے ماڈل کو وہ نہیں اپناتا۔ کائنات کا ماڈل خالق کے تخلیقی منصوبہ پر مبنی ہے۔ خالق کی منشا کے مطابق مادی دنیا میں مختلف اجزا کے متحد اور متوافق عمل سے اعلیٰ نتائج پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ماڈل گو یا ایک مظہرہ ہے، جو بتاتا ہے کہ انسان بھی اسی یونیورسل ماڈل کو اختیار کرے۔ فطرت کے ماڈل کو اختیار کرنے ہی میں انسان کی اعلیٰ ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔ خالق نے انسان کو تنوع کے اصول پر پیدا کیا ہے۔ ہر عورت اور ہر مرد کے اندر الگ الگ صفات (qualities) پائی جاتی ہیں۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس تنوع سے ٹکرانے کے بجائے اويل (avail) کرنے کا آرٹ سیکھیں۔ اس طرح انسان کے تمام معاملات اسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader