Urdu book · حکمتِ اختلاف

حکمتِ اختلاف

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

طرح درست طور پر قائم ہو جائیں گے ، جیسا کہ بقیہ کائنات کے معاملات قائم ہیں ۔ ( سورۃ اللیل آیت 4 کا سبق) اختلاف کا معاملہ قرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : یَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْماً بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ (49:6) ۔ یعنی اے ایمان والو ، اگر کوئی فاسق تمھارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچا دو ، پھر تم کو اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔ قرآن کی اس آیت میں اجتماعی زندگی کا ایک اصول بتایا گیا ہے ۔ وہ یہ کہ جب کوئی شخص کوئی اختلافی بات کہے تو سننے والے کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اس کو بدنیتی کا معاملہ سمجھ لے ، اور کہنے والے کو برا آدمی سمجھنے لگے۔ اس کے بجائے صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس طرح کے معاملے کو تحقیق کا معاملہ سمجھا جائے ، نہ کہ کسی شخص کے بارے میں رائے قائم کرنے کا معاملہ ۔ کسی کے بارے میں رائے قائم کرنا صرف اتمام حجت کے بعد جائز ہے ، اس سے پہلے نہیں۔ اصل یہ ہے کہ شکایت یا اختلاف کا سبب اکثر حالات میں بے خبری اور غلط فہمی ہوتا ہے۔ پیش آنے والے معاملے کے بارے میں صحیح معلومات نہ ہونے کی بنا پر لوگ مخالفانہ رائے قائم کر لیتے ہیں۔ کسی کے بارے میں اس طرح رائے قائم کرنا درست نہیں۔ اسلامی تعلیم کے مطابق ، اتمام حجت سے پہلے تحقیق ہے ، اور اتمام حجت کے بعد رائے قائم کرنا۔ اجتماعی زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف شکایت ہو جاتی ہے۔ یہ شکایت بڑھتے بڑھتے نفرت بن جاتی ہے، اور نفرت کے بعد مزید برائیاں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page