غیر فطری اختلاف
Urdu book, p. 91
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک ہی مشترک مہم میں مشغول تھے۔ اور وہ تھا، اسلام کا ایک ظاہری فارم بنانا۔ فقہا کی تمام تر توجہ اسلامی عمل کے ظاہری فارم پر تھی، نہ کہ اس کے داخلی اسپرٹ پر۔ اس غلط ترجیح کی بنا پر فقہا کی کوششیں غیر مفید ہو کر رہ گئیں۔ فارم میں فطری طور پر موضوع تنوع اور تعدد ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کا ایک مستند فارم بنانے کا نتیجہ صرف یہ نکلا کہ متعدد مذاہب فقہ قائم ہو گئے ۔ اتحاد کی کوشش عملاً تفریق میں تبدیل ہو گئی۔ فقہا کے پاس کوئی خود دریافت کردہ عبادتی ڈھانچہ نہیں تھا، وہ یہی کر سکتے تھے کہ اصحاب رسول کی روایتوں سے عبادت کا طریقہ متعین کریں۔ بطور حقیقت اصحاب رسول کی عبادت کے طریقوں میں اختلاف تھا، ایسی حالت میں اگر فقہا تنوع کے اصول کو مان لیتے تو مسلک کا اختلاف اپنے آپ ختم ہو جاتا۔ اس کے برعکس، انہوں نے عبادات کا واحد مستند فارم بنانے کی کوشش کی، اس کا نتیجہ عملاً یہ نکلا کہ غیر ضروری طور پر مختلف فقہی مسالک قائم ہو گئے۔ شیخ محمد امین شنقیطی ( وفات 1905) مشہور عرب عالم تھے ۔ ان کا ایک واقعہ مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: شیخ شنقیطی اکثر کہا کرتے تھے کہ ہمارے علما دینی بصیرت کے ساتھ جب تک سائنسی علوم حاصل نہیں کریں گے، اور ہمارے نوجوان ان سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے ۔ اس وقت تک فکری غلبہ حاصل نہ ہو سکے گا۔ کیونکہ اس وقت یورپ کے افکار دنیا میں چھائے ہوئے ہیں ۔ اور ان کا جواب ان کی زبان میں دینا ہو گا ۔ ( ماہ نامہ دار العلوم، مارچ 2010، صفحہ 35) جدید مغربی افکار کے بارے میں مسلم علما کا عام ذہن یہی ہے ۔ وہ ان کو اسلام پر مغرب کے فکری حملے کے ہم معنی سمجھتے ہیں۔ اس معاملے میں وہ جس چیز کو اپنی ضرورت سمجھتے ہیں، وہ صرف یہ ہے کہ اہل اسلام کی طرف سے ان کا دفاعی جواب دیا جائے ۔ یہ مغربی افکار کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader