حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
قضا نہیں ہے اور میں کہتا ہوں کہ یہی مسلک صحیح ہے ــ قُلْتُ : وَهُوَ الصَّحِيحُ (تفسیر القرطبی، جلد 2، صفحہ 322 )۔ موجودہ زمانہ میں علمی ذوق اتنا زیادہ بگڑ چکا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ آدمی یا تو کلی موافق ہو سکتا ہے یا کلی مخالف ۔ اگر کوئی شخص ، مثال کے طور پر، ایک جماعت کو مفید جماعت بتائے مگر اس کے بعض طریقوں سے وہ اختلاف کرے تو کہا جائے گا کہ یہ شخص مصلحت پرست ہے ۔ اصل میں تو وہ اس جماعت کا مخالف ہے، مگر مفاد کی بنا پر وہ اس کی تعریف کر رہا ہے ۔ (سفر نامہ اسپین ) غیر فطری اختلاف مولانا محمد بدر عالم میرٹھی (وفات 1965) مشہور حنفی عالم تھے ۔ ان کا ایک واقعہ مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے : ”ایک روز فرمانے لگے کہ حنفی مسلک کا سب سے مشکل مسئلہ کون سا ہے جس کو ثابت کرنا حنفیوں کے لیے بڑا دشوار ہوتا ہے ۔ ہم نے فاتحہ خلف الامام، آمین بالجہر، اس طرح کے مسائل بتانے شروع کیے ۔ فرمایا نہیں۔ حنفی مسلک کا سب سے مشکل مسئلہ وتر کا ہے ۔ یہ فرما کر اپنے استاد حضرت مولانا انور شاہ کشمیری کی عربی کتاب ’’کشف الستر عن صلوۃ الوتر‘‘ مجھے دی اور فرمایا کہ اس کا غور سے مطالعہ کر کے آنا۔‘‘ (ماہ نامہ دار العلوم ، مارچ 2010، صفحہ 31 )۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کے بعد کے زمانے میں، عباسی دور میں جو فقہ بنی، اس کی حقیقت کیا تھی ۔ اس زمانے میں بظاہر بہت سے فقہی اسکول قائم ہوئے ، لیکن اصل حقیقت کے اعتبار سے سب کی نوعیت ایک تھی ، تمام فقہا بظاہر اختلاف کے باوجود

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader