Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ قرآن

Urdu book, p. 100

By Maulana Wahiduddin Khan

رساں بن جائیں گے۔ اعلیٰ انسانی اخلاق یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے رویہ سے بلند ہو کر اپنا رویہ بنائے ۔ دوسرے لوگ خواہ اُس کے ساتھ اچھے نہ ہوں مگر وہ ، ہمیشہ دوسروں کے ساتھ اچھا معاملہ کرے ۔ ناپ تول میں فرق کرنا قرآن کی سورہ نمبر ۸۳ میں زندگی کی ایک حقیقت کا بیان ہے۔ قرآن میں اس کو تططیف کے لفظ میں بتایا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی مذکورہ آیت یہ ہے : ” خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔ جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں ۔ اور جب اُن کو ناپ کر یا تول کر دیں تو گھٹا کر دیں ‘‘ (المططیف ا- ۳) قرآن کی اس آیت میں ناپ اور تول کی مثال سے ایک سماجی برائی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس میں اُس کردار کا ذکر ہے جس کا یہ حال ہو کہ اُس کو جب اپنے لیے لینا ہو تو وہ بھر پور طور پر لے۔ اور جب دوسروں کو دینا ہو تو وہ کمی کر کے دوسروں کو دے۔ یہ تفریق ایک ایسی اخلاقی بُرائی ہے جو آدمی کو تباہی کے سوا کہیں اور نہیں پہنچاتی۔ اس معاملہ کا تعلق زندگی کے تمام پہلوؤں سے ہے۔ مثلاً خود اپنی تعریف سننے کا حریص ہونا مگر دوسروں کی خوبیوں کا اعتراف کرنے میں بخل کرنا۔ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے خوب ہوشیار ہونا مگر دوسروں کے مفاد کو سمجھنے کے لیے نادان بن جانا۔ معاملات میں اپنے لیے رعایت چاہنا اور دوسروں کورعایت دینے کے لیے تیار نہ ہونا۔ اپنی ذات کے معاملہ میں حساس ہونا اور جب معاملہ دوسروں کا ہو تو بے حس بن جانا۔ اپنے لیے انصاف چاہنا اور دوسروں کے ساتھ بے انصافی پر راضی رہنا ۔ یہ تو جاننا کہ مجھے کیا پسند ہے ، مگر دوسروں کی پسند اور ناپسند کے بارہ میں بے خبر رہنا۔ اپنی عزت خطرہ میں ہو تو اُس کو برداشت نہ کرنا مگر دوسروں کی عزت پر حملہ ہو تو اُس کے بارہ میں بے حس بن جانا ، وغیرہ۔ اپنے اور غیر میں اس قسم کا ہر فرق تططیف ہے۔ جس آدمی کے اندر اس قسم کا مزاج ہو وہ کبھی ترقی کے اعلیٰ درجہ پر نہیں پہنچ سکتا۔ اس قسم کا مزاج آدمی کے اندر اعلیٰ صفات کی پرورش میں مستقل رکاوٹ ہے۔ اور جس آدمی کے اندر اعلیٰ صفات کی پرورش رُک جائے اُس کا انجام صرف یہ ہوتا ہے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page