حکمتِ قرآن
Urdu book, p. 99
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لیے خیر خواہ ہی ہوگی۔ ایسا سماج گویا ایک خاندان کی مانند ہوگا جس میں لوگ بھائی بہن کی طرح مل کر رہیں گے۔ ایثار نفس بظاہر ایک قربانی ہے۔ مگر اُسی میں ذاتی فائدہ کا راز بھی چھپا ہوا ہے۔ جو آدمی دوسروں کے ساتھ ایثار کا معاملہ کرے وہ دوسروں کے دل کو جیت لیتا ہے، اور جب دلوں کو جیت لیا جائے تو اُس کے بعد کوئی اور چیز جیتنے کے لیے باقی نہیں رہتی۔ اعلیٰ اخلاق قرآن کی سورہ نمبر ۶۸ میں اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے اور اِس کو انسانیت کا اعلیٰ مرتبہ قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہے: ” اور بے شک تم ایک اعلیٰ اخلاق پر ہو‘ (القلم ۴) اس آیت میں بظاہر رسول سے خطاب ہے۔ مگر وہ ہر انسان کے لیے ایک عمومی تعلیم ہے۔ وہ ہر انسان کو اعلیٰ انسان بننے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اِس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ بُرائی کرنے والوں کے ساتھ بُرائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی، بلکہ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے۔ خواہ دوسرے اِس کے ساتھ بُرائی ہی کیوں نہ کر رہے ہوں ۔ اعلیٰ انسان کا اخلاق یہی دوسرا اخلاق ہوتا ہے۔ اس قسم کا اخلاق کسی انسان کے بارہ میں یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ایک با اُصول انسان ہے۔ ایسا اخلاق اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی کی شخصیت حالات کی پیدا وار نہیں بلکہ وہ خود اپنے اختیار کردہ اعلیٰ اصول کی پیدا وار ہے۔ جس انسان کے اندر اس قسم کا اعلیٰ اخلاق ہو، وہی حقیقی انسان ہے اور جس آدمی کے اندر یہ اعلیٰ اخلاق نہ پایا جائے وہ انسان کی صورت میں ایک حیوان ہے اس سے سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ اعلیٰ اخلاق کی صفت انسان کو حیوان سے جُدا کرتی ہے۔ حیوان مساویانہ اخلاق کی سطح پر جیتے ہیں۔ کوئی اُن کو نہ چھیڑے تو وہ بے ضرر رہیں گے اور اگر کوئی اُن کو چھیڑ دے تو وہ اِس کے لیے ضرر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader