Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ قرآن

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

مشکل میں آسانی قرآن کی سورہ نمبر ۹۴ میں فطرت کے ایک اٹل قانون کا بیان ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر خاتمہ ایک نئے امکان کو لیے ہوئے ہوتا ہے۔ اس لیے یہاں کسی کے لیے کسی بھی حال میں مایوسی کی ضرورت نہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن کا بیان یہ ہے: " پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے" (الانشراح ۵-۶) قرآن کی اس آیت میں فطرت کے ایک راز کو کھولا گیا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی مسئلہ کبھی اکیلا نہیں آتا۔ وہ اپنا حل بھی اپنے ساتھ لے آتا ہے۔ اس دنیا میں ہرڈس ایڈوانٹج کے ساتھ ایڈوانٹج موجود ہے۔ اس دنیا میں ہر مائنس پوائنٹ کے ساتھ پلس پوائنٹ شامل ہے۔ اس دنیا میں ہر نقصان کے ساتھ فائدہ کا ایک امکان چھپا ہوا ہے۔ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں کوئی حالت یکساں طور پر باقی نہ رہے۔ یہاں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ حالات بدلتے رہتے ہیں۔ ہر تاریکی اپنے ساتھ روشنی لے آتی ہے۔ اس لیے آدمی کو چاہئے کہ اُس کو کوئی سٹ بیک (set back) پیش آئے تو وہ نہ گھبرائے اور نہ وہ مایوس ہو۔ اگر وہ اپنے ہوش و حواس کو برقرار رکھے تو بہت جلد وہ دوبارہ اپنے حق میں ایک نیا امکان پا لے گا۔ وہ اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کر کے دوبارہ ترقی اور کامیابی کی منزل پر پہنچ جائے گا۔ انسان کا درجہ قرآن کی سورہ نمبر ۹۵ میں انسان کے بارہ میں ایک تاریخی قانون کو بتایا گیا ہے۔ بعض تاریخی شہادتوں کو پیش کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: " ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔ پھر اس کو سب سے نیچے پھینک دیا۔ مگر جو لوگ ایمان لائے اور صالح اعمال کیے تو ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے" (التین ۴-۶) قرآن کی ان آیتوں میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنے امکان (potential) کے اعتبار سے اعلیٰ ترین مخلوق کا درجہ رکھتا ہے۔ مگر اس امکانی درجہ تک صرف وہ لوگ پہنچیں گے جو اس تخلیقی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page