Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ قرآن

Urdu book, p. 103

By Maulana Wahiduddin Khan

اسکیم کو شعوری طور پر سمجھیں اور اُس کے مطابق اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کریں۔ جو لوگ ایسا نہ کرسکیں وہ سارے امکان کے باوجود محرومی کا کیس بن کر رہ جائیں گے۔ اپنے امکان کو واقعہ بنانے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ آدمی غوروفکر کے ذریعہ اپنے بارے میں تخلیق کے نقشہ کو سمجھے۔ پھر وہ اس تخلیقی نقشہ سے کامل رعایت کرتے ہوئے اُس کے مطابق اپنی عملی سرگرمیاں جاری کرے ۔ وہ حق اور ناحق میں فرق کرنا جانے ، وہ ناحق سے دور رہتے ہوئے اپنے آپ کو حق کا پابند بنائے ۔ امکان خدا کا عطیہ ہے۔ مگر امکان کو واقعہ بنانا انسان کا ذاتی فعل ہے۔ جو آدمی اپنے ذاتی حصہ کی ذمہ داری کو ادا کرنے میں ناکام رہے وہ ہمیشہ کے لیے ناکام ہو گیا، کوئی دوسری چیز اُس کو اس انجام سے بچانے والی نہیں۔ علم سے آغاز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ۵۷۰ء میں مکہ میں پیدا ہوئے ۔ ۶۱۰ء میں آپ پر خدا کی طرف سے پہلی وحی اتری ۔ یہ ابتدائی کلام جو خدا کی طرف سے آپ کو ملا وہ یہ تھا: ”پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ پیدا کیا انسان کو علق سے۔ پڑھ اور تیرا رب بڑا کریم ہے، جس نے علم سکھایا قلم سے۔ انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ جانتا نہ تھا‘‘۔ (العلق ۱- ۵) قرآن میں اترا ہوا یہ پہلا کلام الہی بتاتا ہے کہ کسی حقیقی عمل کا آغاز کیا ہے۔ یہ آغاز علم ہے۔ یعنی انسان کو باشعور بنانا۔ انسان کے اندر ذہنی تبدیلی لانا، انسان کے اندر فکری انقلاب پیدا کرنا۔ یہی انسانوں کے درمیان کسی حقیقی تحریک کا آغاز ہے۔ اس دنیا میں وہی انسانی تحریک کامیاب ہو سکتی ہے جو شعور کی بیداری سے اپنے کام کا آغاز کرے ۔ علم طاقت ہے۔ علم اس دنیا میں سب سے بڑا ہتھیار ہے، ایک فرد کے لیے بھی اور پوری انسانیت کے لیے بھی۔ علم کا آغاز مائنڈ سے ہوتا ہے مگر وہ پوری خارجی دنیا کو مسخر کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ علم کسی آدمی کی تکمیل ہے۔ علم کے بغیر کوئی انسان ادھورا انسان ہے۔ علم کے بعد وہ مکمل انسان بن جاتا ہے۔ علم سے خالی انسان صرف اپنی ذات کو جانتا ہے۔ علم کے حصول کے بعد آدمی پورے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page