حکمتِ قرآن
Urdu book, p. 104
By Maulana Wahiduddin Khan
کائنات کو اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ علم کسی ناقص انسان کو ایک کامل انسان بنا دیتا ہے۔ کاؤنٹ ڈاؤن ہو رہا ہے قرآن کی سورہ نمبر ۱۰۳ میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو حقیقی تعمیر کے لیے اُس چیز کی ضرورت ہے جس کو ٹائم مینجمنٹ کہا جاتا ہے۔ اس ٹائم مینجمنٹ کے بغیر کسی کے لیے حقیقی ترقی کو پانا ممکن نہیں۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: ” زمانہ گواہ ہے۔ بے شک انسان گھاٹے میں ہے۔ سوا ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیا اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔“ (العصرا۔۳) قرآن کی اس سورہ میں زندگی کی ایک اہم حقیقت کے بارہ میں انسان کو آگاہ کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ انسان ہر لمحہ زندگی سے موت کی طرف جا رہا ہے۔ ہر لمحہ انسان کا کاؤنٹ ڈاؤن ہو رہا ہے۔ یہ فطرت کا ایک لازمی قانون ہے۔ اس قانون کو دوبارہ الٹی طرف چلایا نہیں جا سکتا۔ مثال کے طور پر ایک شخص کی مقرر عمر اگر ۸۰ سال ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پیدا ہوتے ہی اُس کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو گیا۔ ہر سال اس کی عمر میں ایک سال کی کمی کا اعلان ہے۔ گویا کہ اُس کی عمر کا سفر اس طرح ہو رہا ہے ۔ ۸۰، ۷۹، ۷۸، ۷۷، ۷۶، ۷۵، ۷۴، ۷۳، ۷۲، ۷۱، ۷۰ الخ۔ اسی کاؤنٹ ڈاؤن کو قرآن کی مذکورہ سورت میں خسران کہا گیا ہے۔ آدمی ہر لمحہ اپنی موت کی طرف جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اگر اپنی مہلت عمر کو استعمال نہ کرے تو آخر کار اُس کے حصہ میں جو چیز آئے گی وہ صرف ہلاکت ہے۔ کامیاب ہونے کے لیے آدمی کو خود عمل کرنا ہے۔ جب کہ ناکامی کے لیے کسی عمل کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے آپ اس کی طرف بھاگی چلی آ رہی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader