Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ حدیث

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ سائل سے مراد وہ شخص ہے جو بول کر سوال کرے اور محروم سے مراد وہ شخص ہے جو خواہ سوال نہ کرے مگر اس کی معذوری اپنے آپ ایک عملی سوال بن گئی ہو۔ خدا کے سچے بندے اپنی کمائی کو اس وقت تک اپنے لئے درست نہیں سمجھتے جب تک وہ اس میں سے سائل اور محروم کو اس کا حصہ نہ دے دیں۔ یہ تعلیم ہر انسان کو اپنے سماج کا خادم بنا دیتی ہے۔ وہ جس سماج سے اپنے لیے لیتا ہے، اس سماج کو دینا بھی وہ اپنا فرض سمجھتا ہے۔ سائل سے مراد عام ضرورت مند ہیں۔ محروم سے مراد خاص طور پر وہ لوگ ہیں جو کسی وجہ سے معذور (disabled) ہو گئے ہوں۔ معذور لوگوں کی خدمت کرنا اسلام کے نزدیک صرف سماجی خدمت نہیں ہے ۔ یہ خود اپنے آپ کو خدا کی ابدی رحمت کا مستحق بنانا ہے۔ 055 ــ تمام انسان ایک پیغمبرِ اسلام نے فرمایا کہ سن لو کہ تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اور سن لو کہ آدم مٹی سے تھے۔ یہ حدیث اس حقیقت کا اعلان ہے کہ تمام انسان برابر ہیں۔ ان میں کچھ ظاہری فرق ہو سکتے ہیں مگر حقیقت کے اعتبار سے ایک اور دوسرے میں کوئی فرق نہیں۔ یہ حدیث انسانی تعلقات کے ایک اہم اصول کو بتاتی ہے۔ اور وہ مساوات کا اصول ہے۔ سارے انسان جب ایک ہی مادہ سے پیدا ہوئے ہیں اور سب ایک مرد اور ایک عورت کی اولاد ہیں تو ان میں تفریق اور امتیاز اپنے آپ ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے مطابق ، تمام مرد ایک دوسرے کے خونی بھائی (blood brothers) ہیں۔ اور تمام عورتیں ایک دوسرے کے لیے خونی بہن (blood sisters) ہیں۔ یہ اصول انسان اور انسان کے درمیان امتیاز کی تمام بنیادوں کو ڈھا دیتا ہے۔ 056 ــ مشورہ کی اہمیت قرآن میں معاملات پر مشورہ کی تاکید کی گئی ہے۔ پیغمبرِ اسلام کے بارے میں روایت میں آتا ہے کہ آپ معاملات میں ہمیشہ لوگوں سے مشورہ کرتے تھے۔ مشورہ کیا ہے۔ مشورہ یہ ہے کہ کسی پیش آمدہ مسئلہ میں ہر ایک کی رائے معلوم کی جائے۔ اس طرح ہر آدمی کا علم اور تجربہ سامنے آ جاتا ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page