حکمتِ حدیث
Urdu book, p. 132
By Maulana Wahiduddin Khan
اور یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ زیادہ بہتر انداز میں معاملے کو حل کرنے کی تدبیر کی جائے۔ زیادہ صحیح منصوبہ بندی کے ساتھ کام کا آغاز کیا جائے۔ مشورہ کے بغیر جو کام کیا جائے وہ ایک شخص کی سوچ پر مبنی ہوگا اور مشورہ کے بعد جو کام کیا جائے اس میں کئی لوگوں کی سوچ شامل ہو جائے گی۔ مشورہ دراصل اجتماعی سوچ کا دوسرا نام ہے۔ انفرادی سوچ اور اجتماعی سوچ میں جو فرق ہے وہی فرق مشورہ کے بغیر کام اور مشورہ کے ساتھ کام میں پایا جاتا ہے۔ مختلف اسباب سے ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کا ذہن ہر پہلو کو سمجھ نہیں پاتا۔ مشورہ اسی کمی کی تلافی ہے۔ مشورہ کے ذریعہ یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ معاملات میں زیادہ درست رائے تک پہنچا جائے۔ پیشگی طور پر غلطیوں سے بچنے کی تدبیر کر لی جائے۔ مشورہ کا کامیاب منصوبہ بندی کا ایک اہم جز ء ہے۔ 057 - ترک کلام نہیں پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ بول چال بند رکھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی سے جھگڑا ہو جائے اور ترک کلام کی نوبت آ جائے تو زیادہ سے زیادہ اس کو تین دن کی معافی مل سکتی ہے۔ تین دن سے زیادہ بول چال بند رکھنا کسی حال میں جائز نہیں۔ اس معاملہ میں تین دن کی رخصت اس لیے دی گئی ہے کہ غصہ زیادہ سے زیادہ تین دن تک رہ سکتا ہے۔ اس کے بعد وہ انا کا سوال بن جاتا ہے۔ کسی کو غصہ کی معافی مل سکتی ہے مگر انانیت کی معافی کسی کے لیے نہیں۔ غصہ ایک فطری کمزوری ہے جو وقتی طور پر پیدا ہوتی ہے مگر انانیت ایک برائی ہے۔ انانیت ایک سرکشی کا معاملہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غصہ قابل معافی ہے مگر انانیت اور سرکشی قابل معافی نہیں۔ وقتی غصہ کے لئے آدمی کے پاس عذر ہو سکتا ہے مگر انانیت اور سرکشی ایک ایسا جرم ہے جس کے لیے کوئی بھی قابل قبول عذر موجو د نہیں۔ 058 - ماننے سے پہلے جانچنا قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ جب تمہیں کسی کے بارے میں کوئی خبر ملے تو پہلے اس کی تحقیق کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تحقیق کے بغیر کسی خبر کو مان لینا ایک غیر ذمہ داری کا فعل ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader