Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ حدیث

Urdu book, p. 139

By Maulana Wahiduddin Khan

آئے۔ اسی راستہ کو بیچ کا راستہ کہا جاتا ہے۔ بیچ کا طریقہ ہمیشہ معتدل طریقہ ہوتا ہے۔ معتدل طریقہ ہمیشہ قابل عمل ہوتا ہے۔ ایسے طریقہ میں آدمی اپنے آپ کو کسی بڑے خطرہ میں ڈالے بغیر آگے بڑھ سکتا ہے۔ معتدل طریقہ میں کسی ایسے بڑے نقصان کا اندیشہ نہیں ہوتا جس کے بعد آدمی کا پورا منصوبہ بکھر جائے اور آخر کار وہ مایوسی کا شکار ہو کر بیٹھ جائے۔ 072 ــ تواضع سے بلندی پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ جو شخص تواضع کا طریقہ اختیار کرے خدا اس کو بلندی عطا کرتا ہے۔ یہ خدا کا مقرر کیا ہوا ایک قانون ہے۔ اس کے مطابق ، تواضع کی روش آدمی کے لیے ترقی کے راستے کھولتی ہے ۔ اس کے برعکس گھمنڈ کا طریقہ آدمی کو پستی کی طرف لے جاتا ہے۔ تواضع کا فائدہ دو طرفہ ہے۔ تواضع کرنے والے کو اس کا یہ فائدہ ملتا ہے کہ اس کے اندر روحانیت جاگتی ہے، اس کے اندر اعلی انسانی صفات پیدا ہوتی ہیں۔ وہ خدا کے فیضان کو وصول کرنے لگتا ہے۔ اس کے اندر حقیقت پسندی کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ چیزوں کو بے آمیز انداز میں دیکھ سکے۔ وہ شخص جس سے تواضع کا معاملہ کیا جائے وہ اپنے ضمیر کی آواز کے تحت تواضع کرنے والے کی عظمت کو ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ وہ اس کے مقابلہ میں سرکشی کرنے کا جذبہ کھو دیتا ہے۔ وہ مجبور ہو جاتا ہے کہ اس کی اخلاقی بڑائی کو مانے۔ وہ اپنے مقابلہ میں اس کو زیادہ بڑا انسانی درجہ دے۔ تواضع صرف ایک روش ہے۔ اس میں آدمی کو کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا۔ تواضع کر کے اسے کچھ کھونا نہیں پڑتا۔ مگر کچھ نہ کھو کر وہ سب کچھ حاصل کر لیتا ہے۔ تواضع کے خلاف روش اگر جھوٹی بڑائی ہے تو تواضع کے مطابق روش سچی انسانیت۔ 073 ــ فضول خرچی نہیں قرآن میں اسراف (فضول خرچی) سے منع کیا گیا ہے۔ یعنی حقیقی ضرورت کے بغیر خرچ کرنا۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ یہ بھی اسراف ہے کہ تم ہر وہ چیز کھاؤ جس کو کھانے کی خواہش تمہارے دل میں پیدا ہو۔ (إن من السرف أن تأكل كل ما اشتہيت)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page