Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ حدیث

Urdu book, p. 140

By Maulana Wahiduddin Khan

آدمی اپنی کمائی کو اگر حقیقی ضرورتوں میں خرچ کرے تو یہ اس کا جائز حق ہے۔ لیکن اگر وہ خواہش اور لذت کی بنا پر خرچ کرنے لگے تو پھر اس کا حق کسی کو نہیں ۔ خدا نے اگر کسی کو زیادہ مال دیا ہے تو اس لیے نہیں دیا ہے کہ وہ اس کو صرف اپنے اوپر خرچ کرتا رہے۔ مال خدا کی امانت ہے اور اس کو چاہیے کہ اس امانت کو وہ انہی مددوں میں خرچ کرے جو خدا نے اس کے لیے مقرر کی ہیں۔ جو آدمی ایسا نہ کرے وہ گویا خدا کی امانت میں پورا نہیں اترا۔ 074 ــ اجتماعی برکت پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ ایک شخص کا کھانا دو آدمی کے لیے کافی ہے اور دو آدمی کا کھانا تین آدمی کے لیے کافی ہے۔ اس حدیث میں مل جل کر رہنے اور اجتماعی طور پر عمل کرنے کی برکت کو بتایا گیا ہے۔ اس حدیث میں کھانے کی مثال ایک علامتی مثال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ لوگ اگر ایک دوسرے کے ساتھ شرکت کر کے کام کریں اور مل جل کر رہیں تو تھوڑے لوگ بھی زیادہ بڑے بڑے کام کریں گے۔ تھوڑے سرمایہ میں بھی بہت سے لوگوں کو نفع حاصل ہوگا۔ کم وسائل میں بھی زیادہ فائدہ حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ ہر آدمی اگر الگ الگ کام کرے تو وہ محدود طور پر صرف اپنے آپ کو فائدہ پہنچائے گا۔ لیکن یہی افراد اگر ایک دوسرے کو شریک کر کے کام کرنے لگیں تو مجموعی طور پر سب کو ایک دوسرے سے فائدہ پہنچے گا۔ 075 ــ انصاف کا تقاضا پیغمبر اسلام نے ایک بار مدینہ کے ایک شخص سے قرض لیا۔ اس کے بعد وہ ایک دن آیا اور آپ سے قرض کی ادائیگی کے لیے سخت زبان استعمال کی۔ پیغمبر اسلام کے ساتھیوں نے چاہا کہ اس کو اس گستاخی کی سزا دیں۔ مگر آپ نے انہیں روک دیا۔ آپ نے کہا کہ حق دار کو بولنے کا اختیار ہے۔ یہ دوسرے کے ساتھ رعایت کرنے کا سبق ہے۔ دوسرا آدمی اگر کسی وجہ سے غصہ میں آجائے یا سخت کلامی کرے تو سننے والے کو اس کے ساتھ رعایت کا معاملہ کرنا چاہیے۔ اگر آدمی دوسرے کی سخت کلامی کو سننے کے لیے تیار نہیں تو اس کو چاہئے کہ وہ اس سے قرض جیسا معاملہ بھی نہ کرے ۔ قرض

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page