حکمتِ حدیث
Urdu book, p. 143
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسا حق ہے جو خود دنیا کے مالک نے میرے لیے لکھ دیا ہے۔ پھر کون ہے جو اس لکھے کو مٹا سکے۔ یہ عقیدہ آدمی کے اندر سے مایوسی کے احساس کو نکال دیتا ہے۔ وہ عین مسائل کے درمیان کھڑا ہو کر کہہ سکتا ہے کہ ــــ کوئی شخص میرے ایک جاب کو مجھ سے چھین سکتا ہے مگر کوئی شخص اتنا طاقت ور نہیں کہ وہ میری قسمت کو مجھ سے چھین سکے : One can take away my job. But no one has the power to take away my destiny. 080 — قناعت پیغمبرِ اسلام نے فرمایا کہ وہ شخص کامیاب ہوا جس کو خدا نے ضرورت کے بقدر رزق دیا اور وہ اس رزق پر قانع رہا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کامیابی کا راز ملے ہوئے پر قانع رہنا ہے نہ کہ نہ ملے ہوئے کے غم میں پڑے رہنا۔ دنیا میں جب بھی کوئی شخص صحیح اصول کے مطابق کمانے کی کوشش کرے تو وہ ضرور اتنی معاش حاصل کر لیتا ہے جو اس کی ضرورتوں کے لیے کافی ہو۔ اگر وہ اس ملے ہوئے پر راضی ہو جائے تو اس کا فائدہ اس کو ذہنی سکون کی صورت میں ملے گا۔ لیکن سکون ہمیشہ قناعت سے ملتا ہے اور قناعت کا مطلب ہے ملے ہوئے پر راضی ہو جانا۔ اس کے برعکس جو شخص ملے ہوئے کو کم سمجھے اور نہ ملے ہوئے کی طرف دوڑتا رہے وہ کبھی مطمئن نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ دنیا میں چیزوں کی کوئی حد نہیں۔ آدمی خواہ کتنی ہی زیادہ چیزوں کو اپنے پاس جمع کر لے پھر بھی کچھ چیزیں باقی رہیں گی جو اس کو یہ لالچ دلائیں گی کہ مجھے یہ بھی حاصل کرنا چاہئے۔ اس طرح وہ ہمیشہ اور زیادہ کی لالچ میں پڑا رہے گا۔ وہ اسی طرح بے سکونی کی زندگی جئے گا یہاں تک کہ وہ اسی حال میں مر جائے گا۔ 081 — کسی سے نہ مانگنا پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ تم کسی سے کچھ نہ مانگو۔ کیوں کہ نیچے کے ہاتھ کے مقابلہ میں اوپر کا ہاتھ زیادہ بہتر ہے۔ یہ اعلیٰ انسانیت کی تعلیم ہے۔ اعلیٰ انسانیت یہ ہے کہ آدمی خود اپنے آپ پر انحصار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader