حکمتِ حدیث
Urdu book, p. 142
By Maulana Wahiduddin Khan
صرف یہ ہے کہ ہر آدمی اس معاملہ میں حساس ہو جائے ۔ جس حساسیت کا مظاہرہ وہ اپنے بارے میں کرتا ہے اس حساسیت کا مظاہرہ وہ دوسروں کے بارے میں کرنے لگے۔ لوگ اگر اس ایک اخلاقی اصول کو پکڑ لیں تو پورا سماج خیر و امن کا سماج بن جائے۔ 078 - معاشی استقلال پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ خدا جب کسی کے لیے رزق کا ایک ذریعہ بنائے تو وہ خود سے اسے نہ چھوڑے، الّا یہ کہ حالات کی مجبوری کی وجہ سے اسے چھوڑنا پڑے۔ اسلام کی تعلیم کے مطابق، رزق کا تعلق خدا سے ہے۔ اس لیے جب کسی انسان کو رزق کا ایک ذریعہ مل جائے تو خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے وہ اس پر قائم رہے۔ اگر وہ کسی حقیقی سبب کے بغیر اس کو چھوڑے گا تو وہ خدا کی مدد سے محروم ہو جائے گا۔ معاشی زندگی میں کامیابی کا راز استقامت ہے۔ اس حدیث میں اسی استقامت اور استقلال کی تعلیم دی گئی ہے۔ معاشی زندگی میں کامیابی ہمیشہ لمبی مدت تک محنت کرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ حال کے بجائے مستقبل پر نظر رکھے۔ اس طرح اس کے اندر استقلال پیدا ہو گا اور وہ ضرور کامیابی کے درجے تک پہنچے گا۔ یہ حدیث گویا اس بات کی تعلیم ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں مستقبل بینی کا مزاج پیدا کرو۔ صرف حال کو دیکھ کر بے حوصلہ نہ ہو جاؤ۔ 079 - رزق خدا کی طرف سے قرآن میں بتایا گیا ہے کہ زمین پر جتنے بھی جاندار ہیں ہر ایک کی روزی خدا کے ذمہ ہے۔ پیغمبر اسلام نے کہا کہ خدا نے کسی مرد یا عورت کا جو رزق لکھ دیا ہے کوئی اس کو چھین نہیں سکتا۔ کوئی شخص نہ اس میں کمی کر سکتا ہے اور نہ زیادتی۔ یہ اعلان ہر مرد اور عورت کو رزق کی گارنٹی دے رہا ہے جس کو کوئی اس سے چھینے والا نہیں۔ جس آدمی کے دل میں یہ بات بیٹھ جائے اس کو اس کے ذریعہ دو فائدے حاصل ہوں گے۔ ایک طرف اس کو یہ یقین حاصل ہو گا کہ جو کچھ اسے مل رہا ہے وہ اس کو بہر حال مل کر رہے گا۔ اس عقیدہ کی بنا پر وہ دنیا میں اس بھروسہ کے ساتھ کام کرے گا کہ میری کوششوں کا نتیجہ مجھے ضرور ملنے والا ہے۔ کوئی بھی اتنا طاقت ور نہیں کہ وہ میرے اور میرے رزق کے درمیان حائل ہو سکے۔ رزق میرا ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader