Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ حدیث

Urdu book, p. 147

By Maulana Wahiduddin Khan

کوئی شخص ظلم کی کارروائی کرے تو مظلوم کو سب سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ اس کی کارروائی ایسی ہو جو اس کی مظلومیت کو ختم کرے نہ کہ وہ اس کی مظلومیت کو بڑھا دے۔ جب بھی کوئی مظلوم اس طرح سوچے تو وہ پائے گا کہ ظالم کو معاف کرنا سب سے بڑا انتقام ہے۔ ظالم کے ظلم کو بھلا دینا ظلم کو ختم کرنے کی سب سے زیادہ آسان تدبیر ہے۔ ظالم کو معاف کرنا کوئی مجبورانہ فعل نہیں، یہ ایک اعلیٰ اخلاقی اصول ہے۔ کوئی آدمی جب ظالم کو معاف کرے تو اس کو آزادانہ اصول کے طور پر ایسا کرنا چاہیے۔ مجبورانہ پر معاف کرنا بھی بے قیمت ہے اور معاف نہ کرنا بھی بے قیمت۔ 089 — اعراض کا طریقہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ جاہلوں اور نادانوں سے اعراض کرو۔ موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی گزارنے کا یہ ایک بے حد اہم اصول ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ نباتات کی دنیا میں جس طرح پھول کے ساتھ کانٹے ہیں اسی طرح انسانی دنیا میں دانشوروں کے ساتھ نادان لوگ ہر جگہ کثرت سے موجود ہیں۔ جس طرح نباتات کی دنیا میں آدمی کانٹوں سے الجھے بغیر پھول کو لے لیتا ہے اسی طرح انسانی دنیا میں بھی اسے نادانوں سے الجھے بغیر اپنی زندگی کا سفر جاری رکھنا ہے۔ نادانوں سے الجھ کر کوئی شخص کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس لیے بہترین عقلمندی یہ ہے کہ جب بھی کسی نادان سے سابقہ پڑے تو اس کو نظر انداز کر کے آدمی آگے بڑھ جائے۔ کوئی شخص ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ دنیا سے نادانوں کے وجود کو مٹا دے۔ البتہ یہ ہر ایک کے بس میں ہے کہ وہ نادانوں سے الجھے بغیر اپنی زندگی کی تعمیر جاری رکھے۔ نادانوں سے اعراض میں یہ اندیشہ نہیں کہ وہ دلیر ہو جائیں گے۔ اعراض آگ کو بجھانے والا ہے، وہ آگ کو بھڑکانے والا نہیں۔ 090 — صبر میں کامیابی پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ جان لو کہ صبر کے ساتھ کامیابی ہے۔ اس حدیث میں صبر کی غیر معمولی اہمیت کو بتایا گیا ہے۔ اس کے مطابق ، صبر ہر قسم کی ترقیوں کا زینہ ہے۔ اس دنیا میں صبر کرنے والا کبھی ناکام نہیں ہو سکتا۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں ہر آدمی کے ساتھ اتار اور چڑھاؤ کے واقعات پیش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page