Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ حدیث

Urdu book, p. 148

By Maulana Wahiduddin Khan

آتے ہیں۔ ہر آدمی کو بار بار کسی نا پسندیدہ صورت حال کا تجربہ ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی بے ہمت ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو شکست خوردہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کامیابی کے امکانات اتنے زیادہ ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتے۔ ایک ناکامی کے بعد ہمیشہ دوسری کامیابی موجود رہتی ہے۔ صبر کا مقصد گویا اپنے آپ کو بے حوصلگی سے بچا کر اگلے موقع کا انتظار کرنا ہے۔ اگر آدمی پہلی ناکامی کے بعد صبر کا ثبوت دے تو بہت جلد وہ پائے گا کہ دوسری کامیابی اس کے قریب ہی اس کا انتظار کر رہی تھی۔ 091 - چھوٹے شر پر راضی ہونا پیغمبر اسلام کے ایک صحابی عمیر ابن حبیب بن حماشہ نے کہا کہ جو شخص نادان کے چھوٹے شرکو برداشت نہیں کرے گا اس کو نادان کے بڑے شر کو برداشت کرنا پڑے گا۔ موجودہ دنیا میں جس طرح سمجھ دار لوگ ہیں اسی طرح یہاں نادان لوگ بھی موجود ہیں۔ یہ نادان لوگ اپنی نادانی کی بنا پر دوسروں کو کچھ نہ کچھ تکلیف پہنچاتے رہتے ہیں۔ یہ تکلیف ابتدا میں ایک چھوٹی تکلیف ہوتی ہے۔ دانش مندی کا تقاضا ہے کہ اس چھوٹی تکلیف کو برداشت کر لیا جائے۔ جو آدمی چھوٹی تکلیف پر نادان سے الجھ جائے تو نادان ضد میں آ کر اس کو اور زیادہ بڑی تکلیف پہنچائے گا۔ ایسی حالت میں بہتر یہ ہے کہ چھوٹی تکلیف کو برداشت کر لیا جائے تا کہ بڑی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ 092 - تحمل کے ذریعہ دفاع مشہور صحابی رسول عبداللہ ابن عباس نے فرمایا کہ جہالت کرنے والے کی جہالت کا دفاع تم تحمل کے ذریعہ کرو۔ صحابی کے اس قول کے مطابق، دفاع کا ایک مناسب طریقہ یہ بھی ہے کہ اس کے لیے جوابی دفاع کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔ دنیا میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کا سابقہ نادانوں سے پڑ جاتا ہے۔ ایسے نادانوں کے شر سے بچنے کا سب سے زیادہ کار گر طریقہ تحمل کا طریقہ ہے۔ تحمل کا طریقہ نادانوں کی کارروائی کو پہلے ہی مرحلہ میں روک دیتا ہے۔ اس کے برعکس اگر نادانوں کے مقابلہ میں رد عمل کا طریقہ اختیار کیا جائے تو ان کی برائی بڑھتی رہے گی۔ یہاں تک کہ وہ قابو سے باہر ہو جائے گی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page