حکمتِ حدیث
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
پر کنٹرول نہ کر سکے۔ غصہ پر کنٹرول نہ کر سکنا خود اپنے آپ سے شکست کھا جانا ہے اور اپنے آپ سے شکست کھانا بلاشبہ سب سے زیادہ بری شکست ہے۔ 095 - شیطان سے پناہ مانگنا پیغمبرِ اسلام نے فرمایا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے۔ جب بھی تم کو محسوس ہو کہ شیطان تم کو بہکا رہا ہے تو تم کہو: اللهم إنى اعوذ بك من همزات الشيطن (اے خدا، میں شیطان کے وسوسوں کے مقابلہ میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں)۔ شیطان انسان کا دشمن ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ انسان کو صحیح راستہ سے بھٹکائے۔ وہ طرح طرح کے وسوسے ڈال کر انسان کو سچائی سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ شیطان آدمی کو دکھائی نہیں دیتا۔ وہ خفیہ طور پر انسان کے اوپر حملہ کرتا ہے۔ انسان اس شیطانی حملہ کے مقابلہ میں بالکل بے بس ہے۔ اس سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے، خدا سے مدد مانگنا۔ خدا کا وعدہ ہے کہ جب بھی کوئی آدمی شیطان کے مقابلہ میں خدا سے پناہ مانگے گا وہ ضرور اس کو اپنی پناہ دے گا۔ یہی اس مسئلہ کا واحد حل ہے۔ 096 - طاقت ور کون پیغمبرِ اسلام نے فرمایا کہ پہلوان وہ نہیں ہے جو لوگوں کو کشتی میں پچھاڑ دے۔ بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔ یہ بلاشبہ کسی شخص کے طاقت ور ہونے کا سب سے زیادہ اعلیٰ معیار ہے۔ جسمانی مقابلہ میں کسی کو پچھاڑ نا کوئی بڑا کارنامہ نہیں، ایسا کارنامہ تو ایک حیوان بھی کر سکتا ہے۔ کسی انسان کے طاقتور ہونے کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ جب اس کو کسی کے اوپر غصہ آئے تو وہ اپنے آپ کو پوری طرح کنٹرول میں رکھے۔ غصہ کے باوجود وہ انسانیت کے دائرہ سے باہر نہ جائے، وہ غصہ کے اوپر غالب رہے نہ کہ غصہ اس کے اوپر غالب آجاۓ۔ 097 - مشکل میں آسانی قرآن میں فطرت کے جن قوانین کو بتایا گیا ہے ان میں سے ایک قانون یہ ہے کہ اس دنیا میں مشکل کے ساتھ آسانی رکھی گئی ہے (الانشراح) یعنی مشکل کے بعد نہیں بلکہ خود مشکل کے ساتھ ہی آسانی کا پہلو شامل ہے۔ یہ فطرت کا ابدی قانون ہے وہ کبھی بدلنے والا نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader