Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ حدیث

Urdu book, p. 151

By Maulana Wahiduddin Khan

اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں مشکل کے مقابلہ میں امکانات کی مقدار بہت زیادہ ہے۔ اگر ایک مشکل پیدا ہو یا ایک بار کوئی نقصان ہو جائے تو آدمی کو مایوس نہیں ہونا چاہئے ۔ بلکہ اس کو چاہئے کہ وہ اپنی سوچنے کی صلاحیت کو استعمال کرے ۔ جب وہ سوچے گا تو وہ جانے گا کہ عین اسی وقت اور ٹھیک اسی مقام پر اس کے لیے بہت سے نئے امکانات موجود ہیں ۔ وہ ایک چانس کو کھو کر وہ دوسرا چانس پاسکتا ہے جس کو استعمال کرکے وہ دوبارہ آگے بڑھ جائے۔ موجودہ دنیا میں زندگی کا بہترین فارمولا یہ ہے کہ مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو۔ ناموافق حالات کو حسن تدبیر سے اپنے موافق بنانے کی کوشش کرو۔ ناکامی کو زیادہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعہ کامیابی میں تبدیل کرو۔ خدا کی اس دنیا میں یہ ممکن ہے کہ آدمی اپنی عقل کو استعمال کرکے اپنے مائنس کو پلس بناسکے۔ یہ امکان ہر اس شخص کے لیے موجود ہے جو ہمت نہ ہارے جو ناامیدی کے حالات میں بھی پرامید بنا رہے۔ 098 - آسان طریقہ کا انتخاب پیغمبر اسلام کی اہلیہ عائشہ پیغمبر کی عمومی پالیسی کو بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ جب بھی پیغمبر اسلام کو دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ مشکل انتخاب کو چھوڑ دیتے اور آسان انتخاب کو لے لیتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ کو پرتشدد طریقہ کار اور پر امن طریقہ کار کے درمیان انتخاب کرنا ہوتا تو آپ پرتشدد طریقہ کار کو چھوڑ دیتے اور پر امن طریقہ کار کو اختیار کرتے۔ اس طرح جب بھی آپ کو اعراض اور ٹکراؤ کے درمیان انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ ٹکراؤ کے طریقہ کو چھوڑ دیتے اور اعراض کے طریقہ کو اختیار کرتے۔ اسی طرح جب آپ کو جنگ اور صلح کے درمیان انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ جنگ کو چھوڑ دیتے اور صلح کو قبول کر لیتے۔ یہی حکمت ہے۔ اس حکمت کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کسی مزید بگاڑ سے بچ جائے اور اپنے معاملات کو کامیابی کے ساتھ درست کرتا چلا جائے ۔ ہر معاملہ میں ہمیشہ دونوں طریق کار کا امکان ہوتا ہے۔ مگر عقل مندی وہی ہے، جس کا نمونہ پیغمبر اسلام کی زندگی میں ہمیں ملتا ہے۔ 099 - ناپسندیدگی میں خیر قرآن میں ایک موقع پر نصیحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ : ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناگوار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page