Urdu book · حکمتِ اسلام

اسلام اور مغربی تہذیب

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

سیکولرزم کی صورت میں نا طرفداری کا جو اجتماعی اصول ساری دنیا میں رائج ہوا ہے اُس نے عملاً اُسی چیز کا تحفہ انسانیت کو دیا ہے جو اسلام کے دورِ اول میں صلح حدیبیہ کے ذریعہ حاصل ہوا تھا۔ اس انقلابی تبدیلی نے اب دعوت کے تمام مواقع کھول دیے ہیں۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے اندیشہ کے بغیر ہر ملک میں آزادانہ طور پر دعوت کا کام کیا جائے ۔ یہ آزادی مغربی تہذیب کے زیر اثر حاصل ہوئی ۔ یہ ایک مکمل آزادی ہے ۔ آزادی کے ان مواقع کو استعمال کرنے کی صرف ایک شرط ہے اور وہ یہ کہ داعی کسی بھی حال میں اور کسی بھی عذر کی بنا پر تشدد کا طریقہ اختیار نہ کرے ۔ وہ پوری طرح پر امن دائرہ میں رہتے ہوئے اپنا دعوت کام جاری رکھے ۔ شعورِ اسلام یا اضافہ ایمان قرآن اور حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ایمان کوئی جامد چیز نہیں ، وہ ایک اضافہ پذیر چیز ہے۔ ایمان ایک پودے کی مانند ہے جو اپنے گردو پیش کی دنیا سے غذا لے کر بڑھتا رہتا ہے ۔ یہاں تک کہ اپنی آخری اونچائی تک پہنچ جاتا ہے (ابراہیم (۲۲)۔ اس اضافہ ایمان کو دوسرے لفظوں میں شعوری ارتقاء (intellectual development) بھی کہا جا سکتا ہے۔ یہ اضافہ ایمان یا ازدیادِ ایمان کس طرح حاصل ہوتا ہے ۔ اس اضافہ کا ذریعہ خدا کی یاد ہے۔ قرآن وسنت کا مطالعہ ہے۔ کائنات میں غور کرنا ہے ۔ اپنے اندر تفکر اور تدبر اور تو سم کی صلاحیت کو اتنا زیادہ بیدار کرنا ہے کہ گردوپپیش کی پوری دنیا آدمی کے لیے ایک وسیع دستر خوان بن جائے جس سے ربانی غذا لے کر آدمی اپنی دینی شخصیت میں اضافہ کرتا رہے۔ قدیم زمانہ کے خدا پرست افراد ہمیشہ اپنے ایمان میں اس قسم کے اضافے کرتے رہتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں مغربی تہذیب کے زیر اثر جو علمی انفجار (knowledge explosion) ہوا ہے اُس نے اضافہ ایمان کی کوششوں کا دائرہ بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پچھلے زمانہ کا انسان روایتی فریم ورک (traditional framework) کے اندر اپنے شعور کو بیدار کر سکتا تھا اور اُس کے دائرہ میں اضافہ ایمان کی غذا حاصل کرتا تھا۔ مگر موجودہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page