اسلام اور مغربی تہذیب
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
ضروری یہ ہے کہ دنیا میں مکمل مذہبی آزادی ہو۔ اور دوسرے یہ کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں، بالفاظ دیگر، داعی اور مدعو کے درمیان معتدل تعلقات قائم ہوں۔ جہاں تک مذہبی آزادی کا تعلق ہے، قدیم زمانہ میں وہ موجود نہ تھی۔ اسی صورت حال کو قرآن میں فتنہ کہا گیا ہے۔ اہل اسلام کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ مذہبی عدم آزادی کی صورت حال کو ختم کردیں۔ خواہ اس کے لیے انہیں مخالف طاقتوں سے لڑناپڑے۔ یہی وہ حکم ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں دیا گیا ہے: وقاتلوہم حتی لا تکون فتنة (الأنفال ۳۹) اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ رسول اور اصحاب رسول نے اس حکم کی تعمیل فرمائی۔ انہوں نے زبردست جدوجہد کے ذریعہ عرب اور اطراف عرب میں مذہبی جبر کا خاتمہ کر دیا اور مذہبی آزادی کا دروازہ کھولا۔ اس طرح پہلی بار دنیا میں مذہبی آزادی کا دور شروع ہوا۔ یہ دور ایک عمل (process) کے روپ میں تاریخ میں جاری ہو گیا۔ مغربی تہذیب نے موجودہ زمانہ میں اس عمل کو آخری حد تک پہنچا دیا۔ اب ساری دنیا میں مذہبی آزادی آگئی۔ ہر ملک کے دستور میں مذہبی آزادی کی دفعات شامل کی گئیں۔ اقوام متحدہ کے منشور میں مذہبی آزادی کو انسان کا ناقابل تنسیخ حق قرار دیا گیا اور اس پر تمام قوموں کے نمائندوں نے اپنے دستخط ثبت کیے۔ صلح حدیبیہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صلح حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا تھا جس نے دس سال کے لیے ٹکراؤ کا خاتمہ کر دیا۔ صلح حدیبیہ کے بعد عرب کے مسلمانوں اور غیر مسلموں میں معتدل تعلقات قائم ہو گئے اور کھلا ڈائیلاگ شروع ہو گیا۔ باہمی تعلقات کے اسی نارملائزیشن کا یہ نتیجہ تھا کہ صرف چند برسوں میں پورے عرب میں اسلام پھیل گیا۔ موجودہ زمانہ میں اقوام متحدہ اور دوسرے بین اقوامی اداروں کے ذریعہ امن اور اعتدال کی جو حالت قائم ہوئی ہے وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے گویا ایک انٹرنیشنل صلح حدیبیہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader