Urdu book · حکمتِ اسلام

فیض بقدرِ استعداد

Urdu book, p. 162

By Maulana Wahiduddin Khan

فیض بقدر استعداد حدیث میں ہے کہ تمہارے دین کی سب سے بہتر چیز فقہ ہے (خیر دینکم الفقہ) رسول اللہ صَلّی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن عباس کے لیے ان الفاظ میں دعا فرمائی : اللہم فقہہ فی الدین وعلمہ التاوییل ( خدایا ، اس کو دین کی فہم عطا فرما اور اس کو تاویل کلام کی صلاحیت دے) بخاری و مسلم میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے : عن ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ عن رسول اللہ صَلّی اللہ علیہ وسلم قال : انّ مثل ما بعثنی الله به من الھدیٰ والعلم كمثل غيث اصاب ارضاً ، فكانت منها طائفة طيبة قبلت الماء فانبتت الكلأ والعشب الكثير... وكان منها اجادب امسكت الماء فنفع الله بها الناس ... فشربوا منها وسقوا وزرعوا .... واصاب طائفة منها اخرىٰ، إنما هي قيعان لا تمسك ماء ولا تنبت كلا ... فذالك مثل من فقه في دين الله ونفعه ما بعثنى الله به فعلم وعلّم، ومثل من لم يرفع بذلك رأساً، ولم يقبل هدى الله الذى ارسلت به ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صَلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے جس ہدایت اور علم کے ساتھ مجھے بھیجا ہے اس کی مثال ایک بارش کی ہے جو زمین پر برہے۔ اس کا ایک حصہ زرخیز تھا۔ اس نے پانی کو قبول کیا اور خوب گھاس اور سبزہ اگایا۔ اور اس زمین کا ایک حصہ بنجر زمین ہو۔ اس نے پانی کو روکا تو اللہ نے اس سے لوگوں کو فائدہ پہونچایا۔ اور زمین کا ایک اور حصہ ڈھلوان تھا۔ وہ نہ پانی کو روکا کرتا تھا اور نہ سبزہ اگاتا تھا۔ پس یہی مثال اس شخص کی ہے جس نے اللہ کے دین میں سمجھ حاصل کی، اس سے اس کو نفع ہوا۔ اس نے سیکھا اور سکھایا۔ اور (دوسری) مثال اس شخص کی ہے جس کو اس میں سے کوئی حصہ نہ ملا اور اس نے اس ہدایت کو قبول نہ کیا جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں ۔ زمین کو بارش کا فائدہ اس کی استعداد کے بقدر ملتا ہے ، یہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔ خدا کی ہدایت تمام انسانوں کے لیے عام ہے۔ مگر جو شخص جتنی استعداد کا ثبوت دے گا اتنا ہی فائدہ اس کو حاصل ہوگا۔ اور سب سے بڑا فائدہ جو ہدایت الہیٰ سے کسی کو ملتا ہے وہ معرفت ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page