Urdu book · حکمتِ اسلام

علم اور تقویٰ

Urdu book, p. 163

By Maulana Wahiduddin Khan

علم اور تقویٰ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ سے ڈرو اور وہ تم کو علم دے گا (و اتقوا اللہ و یعلمکم اللہ ، البقرۃ ۲۸۲) دوسرے مقام پر کہا گیا ہے کہ اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تم کو پہچان دے گا (ان تتقواللہ یجعل لكم فرقانا)، ایک اور جگہ ارشاد ہوا ہے کہ اللہ سے ڈرو۔۔۔ وہ تم کو روشنی عطا فرمائے گا جس میں تم چلو گے (... و يجعل لكم نوراً تمشون به)، امام مالک نے امام شافعی سے ان کی جوانی کی عمر میں نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا: اے لڑکے، میں دیکھتا ہوں کہ اللہ نے تمھارے دل کو روشنی سے بھر دیا ہے تو تم اس کو گناہ کی تاریکی سے نہ بجھا دو (یا یعنی اپنی اریٰ اللہ قد ملأ قلبك نوراً فلا تطفئه بظلمة المعصية) امام شافعی نے اپنے استاد وکیع بن الجراح سے اپنی ایک گفتگو کا ذکر اس طرح اشعار میں کیا ہے : شكوت الى وكيع سوء حفظي فارشدني الى ترك المعاصي و اخبرني بان العلم نور و نور الله لا يهدى لعاصى میں نے شیخ وکیع سے حافظہ کی خرابی کی شکایت کی تو انہوں نے مجھے نصیحت کر کے گناہوں کو چھوڑ دو اور انھوں نے مجھے بتایا کہ علم روشنی ہے اور اللہ کی روشنی کسی گنہگار کو راستہ نہیں دکھاتی۔ یہاں علم سے مراد معلومات نہیں، معرفت ہے۔ ایک حقیقی معرفت تک پہنچنے کے لئے صرف یہ کافی نہیں کہ آدمی کے پاس الفاظ اور معلومات کا ذخیرہ ہو، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے اندر صحتِ فکر ہو۔ اللہ کا ڈر آدمی کے اندر.. ہی صحتِ فکر پیدا کرتا ہے۔ آدمی جتنا زیادہ سنجیدہ ہو اتنا ہی زیادہ اس کے اندر صحتِ فکر کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ چونکہ اللہ کا ڈر آدمی کو سب سے زیادہ سنجیدہ بناتا ہے، اس لئے اللہ کا ڈر آدمی کو سب سے زیادہ اس قابل بناتا ہے کہ وہ صحیح اور درست طریقہ پر سوچ سکے۔ اللہ کا ڈر آدمی کے الفاظ اور معلومات کے لئے ایسا ہی ہے جیسے تانچہ خام اشیار کے لئے۔ چنانچہ خام اشیار کو با معنی صورت میں تبدیل کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ کا ڈر الفاظ اور معلومات کو معرفت میں ڈھال دیتا ہے۔ کچھ علوم انسانی مدرسہ میں پڑھائے جاتے ہیں اور کچھ علوم خدا کے مدرسہ میں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page