دار الاسلام ، دار الحرب
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
وسیع تر تقسیم کے لحاظ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ دار الخوف سے مراد بنیادی طور پر وہ زمانہ ہے جس کو سیرت کی کتابوں میں مکی دور کہا جاتا ہے اور دار الامن سے مراد بنیادی طور پر وہ زمانہ ہے جس کو سیرت کی کتابوں میں مدنی دور کہا گیا ہے۔ گویا کہ وہ چیز جس کو بعد کے فقہاء نے دار الحرب سے تعبیر کیا، اس کو قرآن میں دار الخوف کہا گیا تھا۔ اس طرح ان فقہاء نے جس حالت کو دار الاسلام سے تعبیر کیا، اس کے لیے قرآن میں دار الامن کا لفظ استعمال کیا گیا۔ مذکورہ حالت اسلام کے ظہور کے تقریباً بیس سال بعد تک رہی۔ اُس کے بعد خدا کی مزید عنایت ہوئی۔ پیغمبر اسلام کے آخری زمانہ میں وہ اہم اعلان کیا گیا جو قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں موجود ہے۔ اُس کا ترجمہ یہ ہے: آج انکار کرنے والے لوگ تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے ۔ پس تم اُن سے نہ ڈرو، اور تم صرف مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا۔ (المائدہ ۳) قرآن کی یہ آیت اس بات کا ایک خدائی اعلان ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی تکمیل کے بعد دنیا میں ایک ایسا انقلاب آیا ہے جس نے ہمیشہ کے لیے اس امکان کو ختم کر دیا ہے کہ زمین کا کوئی حصہ اہلِ اسلام کے لیے دوبارہ دار الخوف بن جائے۔ اب قیامت تک کے لیے اہل اسلام کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ اب ساری دنیا میں اہلِ اسلام کے لیے ایک ایسا دور آچکا ہے جس میں اُن کے لیے خشیت انسانی کا مسئلہ باقی نہیں رہا۔ اب انسانی تاریخ خشیت الہی کے دور میں داخل ہوگئی ہے۔ گویا اب ساری دنیا ہمیشہ کے لیے دار الامن ہے، اب وہ اہلِ اسلام کے لیے کبھی دار الخوف بننے والی نہیں۔ اب اہلِ اسلام کا کام یہ ہے کہ وہ حاصل شدہ مواقع کو استعمال کریں، نہ کہ وہ مفروضہ خوف کے نام پر اہلِ عالم سے بے فائدہ لڑائی چھیڑ دیں۔ اب مسلمانوں کو یہ نہیں کرنا ہے کہ وہ دار الاسلام یا دار الامن قائم کرنے کے نام پر غیر مسلم قوموں سے لڑائی کریں۔ اس کے برعکس اب اہلِ اسلام کو یہ کرنا ہے کہ وہ ہر حال میں دار الامن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader