دار الاسلام ، دار الحرب
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
کے محافظ بنے رہیں ۔ اب مسلمانوں کو اُس نادانی سے بچنا ہے جس کا ذکر حدیث میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: عن حذيفة عن النبی صلی الله عليه وسلم قال: لا ينبغی لمسلم ان يذل نفسه، قيل و كيف يذل نفسه قال يتعرض من البلاء لما لا يطيق (مسند احمد، ۵/ ۲۰۵) حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مسلم کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ خود اپنے آپ کو ذلیل کرے۔ پوچھا گیا کہ کوئی شخص خود اپنے آپ کو کیسے ذلیل کرے گا۔ آپ نے فرمایا کہ وہ ایک ایسی بلا سے تعرض کرے جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو۔ قرآن کی مذکورہ آیت کے مطابق، دنیا کا ہر ملک اب اہلِ اسلام کے لیے دارالامن بن چکا ہے۔ دارالامن سے مراد وہ جگہ ہے جہاں پر امن دینی عمل کے مواقع موجود ہوں ۔ اب جب کہ خدا نے تمام دنیا کو مسلمانوں کے لیے دارالامن بنا دیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب اہلِ اسلام کے لیے فرض کے درجہ میں ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنا ملی اور دینی عمل مکمل طور پر امن کے حدود میں رہتے ہوئے انجام دیں۔ اب اُن کے لیے یہ جائز ہی نہیں کہ وہ پر امن طریق کار کو چھوڑ کر پُر تشدد طریق کار اختیار کریں۔ پر امن طریق کار کی یہ فرضیت صحیح البخاری کی ایک روایت سے معلوم ہوتی ہے۔ حضرت عائشہ نے پیغمبر اسلام کی عمومی پالیسی کو بتاتے ہوئے کہا: ما خیر رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أمرين الا اختار ايسرهما (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو امروں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ مشکل طریقہ کو چھوڑ کر آسان طریقہ اختیار فرماتے)۔ اس حدیث کے مطابق ، پر تشدد طریق کار ایک مشکل طریق کار ہے اور پر امن طریق کار ایک آسان طریق کار ۔ اب سنت رسول کی پیروی میں اہل اسلام کو یہ کرنا ہے کہ وہ پُر تشدد طریق کار سے مکمل طور پر بچیں، اور پر امن طریق کار پر سختی کے ساتھ کار بند رہتے ہوئے اپنا دینی اور ملی مقصد حاصل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader